خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 205

خطبات طاہر جلدا 205 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء میں دوسری دفعہ ملی تو اور بھی ناراض تھی۔اس طرح تو پھر ناراض ہوں گے۔تبلیغ کے ساتھ جو حکمت کو باندھا گیا ہے اس حکمت کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے اور مانوس کرنے میں مضمون سے مانوس کرنا داخل ہے۔دیکھیں ! ایک عورت ہے جس کے گھر کی گائے یا بھینس ہے ، وہ روزانہ اس کا دودھ دھوتی ہے لیکن جب تک پسمائے نہیں اس وقت تک وہ گائے یا بھینس اس کو دودھ نہیں دیتی۔پانی ڈالتی ہے ، نرم ہاتھوں سے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرتی ہے اور یہاں تک کہ دودھ آ جاتا ہے اور جب وہ دودھ دوہتی ہے تو اس گائے یا بھینس پر احسان کرتی ہے کیونکہ دودھ سے بھرا ہوا وہ تھن اُس کے لئے بوجھ بن جاتا ہے تو غرض پوری ہورہی ہے لیکن احسان کے رنگ میں اور اس سے پہلے پیار اور محبت سے دل لبھانا جس کو ہم بچپن میں پتا نہیں پنجابی تھی یا اُردو مگر پسمانا' کہا کرتے تھے کہ گائے بھینسوں کو پسما یا جا تا تھا تو بغیر پسمائے آپ مضمون کی طرف لے آئیں گے اور جس طرح گائے دولتی مارتی ہے اور اگر تھوڑا سا دودھ پہلے دوہا ہوا ہو تو بعض دفعہ وہ بھی ضائع ہو جاتا ہے تو ایسا کام نہ کریں کہ آپ خدا کی خاطر کسی کو پسمائے بغیر خدا کا ذکر شروع کر دیں اور بجائے اس کے کہ وہ آپ کی طرف مائل ہو وہ دولتی مارے اور آپ کی ساری محنت ضائع چلی جائے۔میری مراد یہ ہے کہ صرف ذاتی تعلق قائم کرنا ہی نہیں بلکہ مضمون کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں بھی مراحل ہوتے ہیں اور اُن کو درجہ بدرجہ اختیار کرنا چاہئے۔بعض لوگ بڑی حکمت سے کام کرتے ہیں۔ایسی کتابیں دیتے ہیں جن کا براہ راست تبلیغ کا کوئی مضمون نہیں ہوتا یا ایسی کتابیں دیتے ہیں جن میں کتاب وصول کرنے والے کو اپنے مقصد کے لئے ایک بہت عمدہ ہتھیار ہاتھ آجاتا ہے۔مثلاً عیسائی علاقوں میں مسلمان ہیں جن کو عیسائیوں سے مقابلے کی استطاعت نہیں ہے یا صلاحیت نہیں ہے ان کو آپ احمدیت کا وہ لٹریچر دیں جس میں عیسائیوں کے مد مقابل بڑے قومی دلائل پیش کئے گئے ہیں تو ایسا لٹریچر وصول کرنے والا یہ نہیں سمجھے گا کہ مجھے کی جارہا ہے بلکہ اس کے لئے تقویت کا سامان ہوگا۔اگر مسلمانوں کو جن کو خدا تعالیٰ نے آنحضرت مالی کی محبت ودیعت فرمائی ہے جیسے دودھ میں پلائی گئی ہو ، بد سے بد بھی حضرت محمد مصطفی امیہ سے محبت ضرور رکھتا ہے آنحضرت ﷺ کی سیرت کی وہ کتب دی جائیں جن میں آنحضرت ﷺ کی سیرت کو ایسی شان سے پیش کیا گیا ہے، ایسے عظیم طریق پر پیش کیا گیا ہے کہ اس کی مثال دوسری کتب میں دکھائی نہیں