خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 204
خطبات طاہر جلد ۱۱ 204 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء میں نے اُس کی ایک مثال دی تھی کہ پاکستان کی جیلوں میں سے ایک جیل جانے والے داعی الی اللہ نے مجھے ایک شخص کے حالات لکھے جو بہت ہی دردناک تھے اور وہ شخص کوئی چھپیں تھیں سال سے بغیر کسی مقدمہ کے صعوبتوں میں مبتلاء تھا اور کوئی اس کا پاسبان نہیں تھا، کوئی اس کا پُرسان حال نہیں تھا۔اس کا معاملہ ہم نے ایمنسٹی کو دیا اور ایمنسٹی نے اس کے لئے کوشش کی اور کامیابی نصیب ہوئی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ آزاد ہوا لیکن آزاد ہوتے ہی حضرت محمد ﷺ کا غلام بن گیا۔پہلے وہ ہندو تھا، پھر موحد بنا اور موحد بھی ایسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے کلام کا ، آپ کے پیغام کا ، آپ کی ذات کا عاشق ہو گیا اور اُس نے آزادی کے بعد مجھے ایک بہت ہی دلچسپ خط لکھا کہ اب اس دور میں جبکہ احمدیت کے ذریعہ مجھے اسلام کی حقیقی تعلیم سے تعارف ہوا ہے تو مجھے پتا چلا ہے کہ اسلام کیا ہے؟ پس وہ احسان کریں جو چھوٹا بھی ہو تو خود غرضی کا نہ ہو جس میں خود غرضی کا کوئی پہلو نہ ہو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ احسان کرتے ہی تبلیغ شروع نہ کر دیں، اگر چہ تبلیغ بھی احسان ہے لیکن جب آپ احسان کرتے ہی تبلیغ شروع کرتے ہیں تو اگلا سمجھتا ہے کہ اب سمجھ آگئی ہے کہ کس لئے مجھے بلا رہا ہے۔چائے کی پیالی پر بلایا اور ساتھ تقریر شروع کر دی اور ایسے لوگ بیچارے جن کو چائے کی پیالی پلائی جارہی ہوتی ہے وہ پھر چائے زہر مار کرتے ہیں لطف نہیں اٹھاتے۔وہ کہتے ہیں میں کس مصیبت میں پھنس گیا، اس مصیبت سے نجات ملے۔ایک پیالی چائے کے بدلے اس شخص نے اتنی لمبی تقریر جھاڑ دی اور پھر وہ دامن بچاتے ہیں اور آئندہ اس شخص سے ملنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔تو احسان سے مراد ایسا احسان ہے جس کے بعد ارد گرد کوئی غرض دکھائی نہ دے رہی ہو اور وہ غرض جو آپ رکھتے ہیں یہ اس وقت ظاہر ہو جب کہ یہ غرض احسان کا رنگ اختیار کر چکی ہو اور جس شخص پر یہ غرض ظاہر ہورہی ہے احسان کے رنگ میں ظاہر ہورہی ہے۔اس کے بہت سے طریق ہیں اور مانوس کرنے کا جو علم ہے یہ تو اللہ تعالیٰ فطرتا عطا کرتا ہے اور پھر تجربہ سے یہ علم بڑھتا ہے۔بے چارے بعض مبلغ ہیں وہ اپنی سادگی میں اس طرح تبلیغ کرتے ہیں مثلاً ایک خاتون ہیں ان کو تبلیغ کا بڑا شوق ہے وہ مجھے ملنے آئیں میں نے ان سے پوچھا کہ بتائیں کس طرح تبلیغ کی ؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ جو اعتراضات کے جواب کے رسالے شائع ہوئے تھے ان میں سے تین رسالے اس کو دے آئی ہوں۔میں نے کہا اس طرح تقسیم کرنا مقصود تو نہیں تھا۔تو پھر میں نے کہا کیا نتیجہ نکلا تو کہنے لگیں کہ