خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 203
خطبات طاہر جلدا 203 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء دل کے ساتھ باندھ لو۔دعوت الی اللہ کرنے والے پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جس کو وہ خدا کی طرف بلائے اس کا خدا کی طرف آنا عارضی نہ ہو۔یہ نہ ہو کہ چند دن کے بعد وہ غیر معاشرے میں جائے اور پھر غیروں کا ہور ہے۔پس جہاں تبلیغ میں خشکی ہوتی ہے وہاں عموماً ایسے آنے والے ضائع ہو جاتے ہیں۔جہاں تبلیغ میں محبت اور تعلق کے جذبات غالب ہوتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آنے والے ہمیشہ مستقل دین کے ہی ہو رہتے ہیں اور ضائع ہونے والوں میں عموماً میں نے یہی محسوس کیا ہے کہ ان کو دعوت الی اللہ کرنے والوں کے تعلق میں ایک خشکی تھی کوئی روحانی نرمی اور گرمی نہیں تھی۔بہر حال اب سوال یہ ہے کہ مانوس کیسے کیا جائے۔مانوس کرنے کے متعلق میں پہلے بھی ایک دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ تعلقات بنانے کے بہت سے طریق ہیں اور سب سے نمایاں اور واضح طریق احسان کا طریق ہے اور اگر احسان ایسا ہو کہ جس کے نتیجہ میں جس پر احسان کیا جائے وہ یہ نہ سمجھے کہ اپنی کسی غرض سے کر رہا ہے۔تھوڑا احسان بھی ہوتا ہے اور غیر معمولی اثر ڈالتا ہے۔ایک آدمی کو ایک چائے کی پیالی پلانا کون سی احسان کی بات ہے، معمولی بات ہے بعض دفعہ پلانے والا اُس سے بہت زیادہ غریب ہوتا ہے جس کو وہ پلائی جاتی ہے لیکن اگر امیر آدمی کو ایک غریب آدمی چائے کی پیالی پلائے اور امیر جانتا ہو کہ اسے مجھ سے کوئی غرض نہیں ، مجھ سے کوئی کام نہیں تو چائے کی ایک پیالی ہی اس کے دل میں ایک بھاری احسان بن کر بیٹھ رہے گی اور اس طرح احسان کا مضمون عام دنیا کے حسابات سے مختلف ہو جاتا ہے۔پس اگر کسی کو مانوس کرنا ہو تو قرآن کریم نے جو طریق احسان کا بیان فرمایا ہے اس کے مطابق مانوس کریں۔فرمایا: وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (المدثر:۷) ایسا احسان نہ کیا کرو جس کے نتیجہ میں زیادہ حاصل کرنا مقصود ہو اور جس کا مقصد کچھ اور لینا اور اپنی دولت کو یا اپنی طاقت کو بڑھانا ہو۔اب یہ جو پیغام ہے اس میں دعوت الی اللہ کرنے والوں کے لئے بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ وہ غیروں سے اس رنگ میں حسن سلوک کریں کہ اُن کو حسن سلوک کرنے والے کا کوئی فائدہ اس میں دکھائی نہ دے۔بعض لوگ ہسپتالوں میں جاتے ہیں ، مریضوں کی تیمارداری کرتے ہیں، جیلوں میں جاتے ہیں ، وہاں ضرورت مندوں کا خیال رکھتے ہیں ، پھر بعض دفعہ ان غریبوں کے لئے جن کا کوئی سہارا نہ ہو بعد میں کوشش بھی کرتے ہیں۔