خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 202

خطبات طاہر جلد ۱۱ 202 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء کیلئے ہمیشہ تیار ہیں تو اگر کسی ملک میں ان کی تعداد دس فیصد ہو جائے تو وہ ضرور غالب آجاتی ہیں، اس کے بعد حساب یکسر بدل جاتا ہے۔پہلے رفتہ رفتہ آہستگی کے ساتھ ترقی ہوتی ہے لیکن جب آپ ایک اور دس کی نسبت حاصل کر لیتے ہیں تو سارا ملک آپ کے قدموں میں آجاتا ہے۔یہ وہ خوشخبری ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں بعض ملکوں میں پہلے سے بہت بڑھ کر تیزی سے کام کرنا چاہئے کیونکہ ہم اُس موڑ تک پہنچ رہے ہیں جس کے بعد چڑھائی ختم ہے اور پھر تیزی کے ساتھ سارا ملک خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والے مخلصین کی جھولی میں ہوگا۔میں ذرار کا اس لئے کہ ظاہری طور پر قدموں میں ہوگا“ کا محاورہ آرہا تھا مگر مضمون کی مناسبت سے یہاں بجتا نہیں تھا۔تو فصاحت و بلاغت کو بعض موقع پر ایک طرف رکھنا چاہئے اور مضمون کو بہر حال ترجیح دینی چاہئے تو اس پہلو سے ان کی جھولی میں ہو گا۔اس طرح جھولی میں ہوگا جیسے ایک چمن سے محبت کرنے والا پھول چن چن کر اپنی جھولی میں ڈالتا ہے اور اس غرض سے جھولی میں ہوگا کہ ان پھولوں کو حضرت اقدس محمد مصطفی امتی ہے کے قدموں میں ڈالا جائے اس نیت سے اس مضمون کو سمجھ کر آپ دعوت اللہ کریں۔اب میں واپس اس مضمون کی طرف لوٹتا ہوں۔میں بتا رہا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی کہ پہلے پرندوں کو مانوس کرو پھر وہ تمہارے ہو جائیں گے اور تمہاری آواز کے نتیجہ میں لبیک کہیں گے پھر وہ غیروں میں رہ کر بھی تمہارے رہیں گے۔اس میں ایک اور بہت بڑی حکمت کی بات ہے کہ وہ مذہبی قو میں جو رفتہ رفتہ آہستگی سے پھیلتی ہیں اُن کو اکثر صورتوں میں معاشروں میں غلبہ نصیب نہیں ہوتا اور اُن کے بنائے ہوئے مسلمان یا مومنین عموماً غیر معاشرے میں زندگی بسر کرتے ہیں جہاں غیر معاشرے کا غلبہ ہوتا ہے اور ایسی صورت میں ان کے ضائع ہونے کا بہت بڑا خطرہ درپیش ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اسی تربیت کا مسئلے کا حل بھی حضرت ابراہیم کو سکھلا دیا۔فرمایا اگر تم نے اُن کو اپنی ذات کے ساتھ مانوس کرلیا تو پھر وہ تمہارے رہیں گے۔مختلف سمتوں میں چلے جائیں گے مختلف پہاڑوں کی چوٹیوں پر جا کر بیٹھیں گے مگر تمہاری ایک آواز کے نتیجہ میں دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آئیں گے۔ان کو مستقل اپنا بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اُن کے ساتھ محبت کرو اور اس محبت کے نتیجہ میں اُن کے دلوں کا تعلق اپنے