خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 201
خطبات طاہر جلد ۱۱ 201 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء ہوئے قرآن کریم بتاتا ہے کہ فرشتے نازل کئے گئے یہ فرشتے کیا تھے ؟ اس کے متعلق دوسری جگہ خدا تعالیٰ نے ظاہر فرما دیا ہے کہ فرشتوں کا مضمون تمہارے دل کی تسلی کے لئے ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ رسد یعنی مد داللہ ہی کی طرف سے آیا کرتی ہے۔تم ان باتوں کی کنہ کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے مستقل طور پر تمہیں فرشتوں کی تعداد بتائی گئی ہے مگر اصل مقصد مدد کرنا ہے اور خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کیسے مدد کی جاتی ہے چنانچہ وقتی طور پر رعب بڑھا کر اور دشمن سے غلطیاں کروا کر خدا تعالیٰ اس طرح مددفرماتا ہے لیکن بالعموم جہاں تک مقابلے کے نتیجہ کا تعلق ہے وہاں ایک اور دو کی نسبت دکھائی دیتی ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جتنے مقابلے ہوئے ہیں اُس دور میں اگر کل کفار مقتول کا شمار کریں اور مسلمان شہداء کا شمار کریں تو بالعموم یہی نسبت دکھائی دیتی ہے چنانچہ قاضی سلیمان منصور پوری نے اپنی كتاب رحمة للعالمین میں تمام اعداد و شمار اکٹھے کر کے یہ نکتہ پیش کیا لیکن اس میں انہوں نے بعد کے بھی بہت سے اعداد و شمار اکٹھے کئے اور کچھ زبردستی بھی کی ہے اس لئے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب ” رسول رحمت میں اس کا ذکر کرتے ہوئے ان کے حساب کو رد کیا ہے لیکن جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے مسلمانوں کو نتیجہ کے لحاظ سے بالعموم ایک اور دوکا یا ایک اور دو سے زیادہ کا غلبہ عطا ہوا ہے۔پس امید رکھتا ہوں کہ جو وعدے اللہ تعالیٰ نے آغاز میں حضرت اقدس محمد ﷺ کے اولین ساتھیوں سے کئے تھے اور ان کی برکت سے تابعین کو غیر معمولی جو رعب اور غیر معمولی غلبے عطا ہوئے اس دوسرے دور میں یعنی آخرین کے دور میں بھی اللہ تعالیٰ دعوت الی اللہ کرنے والوں سے ایسا ہی سلوک فرمائے گا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کو غیر پر جو غلبہ عطا ہوا اس میں وقت کے گزرنے سے کمی نہیں آئے گی بلکہ اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور اب اس دور میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کے آثار نمایاں طور پر نظر آرہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اپنے فضل کے ساتھ جماعت کو وہاں ایک اور دس کی نسبت سے بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ نسبت کے ساتھ کامیابیاں عطا فرمارہا ہے۔اس میں ایک اور مضمون یہ پیش نظر ہے اور رکھنا چاہئے کہ اس سے مراد محض ظاہری قتال نہیں ہے بلکہ ہر قسم کا مقابلہ اس میں شامل ہے اور یہ ایک عمومی دستور بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ قومیں جو بامقصد ہوں، جوصبر کرنے والی ہوں ، منظم ہوں اور اپنے آپ کو ایک اعلیٰ مقصد کے لئے قربان کرنے