خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 200
خطبات طاہر جلد ۱۱ 200 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء آزمائش سے گزر کر وہ اپنے مقصد سے تعلق تو ڑ بیٹھتے تھے اور اسی لئے بعد میں تیزی کے ساتھ مسلمان ہونے لگتے ہیں۔پس یہ مضمون ہے جس کو ہر داعی الی اللہ کو آج بھی اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔جہاں تک تاریخ اسلام کے آغاز کے غزوات اور سریہ وغیرہ کا تعلق ہے میں نے جائزہ لیا تو حضرت محمدیہ کے زمانہ میں جتنے بھی غزوات پیش آئے یعنی ایسے جہاد جن میں آنحضرت میں نے بنفس نفیس شرکت فرمائی اور اسی طرح بہت سے سر یہ بھی یعنی جن میں حضور اکرم ﷺ نے خود شرکت نہیں فرمائی لیکن وہ جہاد ہی تھا اور آنحضرت یہ کی ہدایت کے تابع غیروں سے مقابلہ ہوا۔اُن میں ایک اور تین سے نسبت نہیں بڑھی اس لئے ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب تم سے تخفیف کی جاتی ہے تو یہ سامان بھی فرما دیا کہ ایک اور دس کی نسبت کا سوال ہی نہ پیدا ہو۔صلى الله اگر اس آیت کے نزول کے بعد اور اس راز کو سمجھ لینے کے بعد اس وقت دشمن ایک کے مقابل پر دس کی تعداد میں حملہ آور ہوتا تو ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو خدا کی طرف سے وہ ضمانت نہیں تھی لیکن حفاظت کے اور طریق اللہ تعالیٰ استعمال فرماتا ہے اور ان طریقوں میں سے ایک طریق یہ ہے کہ دشمن کو اس بات کی نہ عقل دی نہ توفیق دی کہ ایک مسلمان کے مقابل پر دس آجائیں یا سو کے مقابل پر ہزار نکل کھڑے ہوں۔صرف ایک موقع ایسا ہے جس میں جنگ موتہ پر حضرت زید بن حارثہ کی قیادت میں لشکر رومیوں کے علاقہ کی طرف بھیجا گیا مسلمانوں کی تعداد ہزارتھی اور رومیوں کی تعداد ایک لاکھ تھی یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے بچانے کی یہ صورت پیدا فرما دی کہ حضرت خالد بن ولید کو یہ سمجھ دی کہ اس موقع پر دشمن سے ٹکرانا معقول بات نہیں ہے ، دشمن کے نرغے سے بچ کر نکل آنا معقول بات ہے۔چنانچہ بہت ہی حیرت انگیز صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے آپ نے دشمن کے اس گھیرے سے نکل کر مسلمان فوج کو بچالیا اور یہ آپ کا بھا گنانہیں تھا بلکہ الہی تقدیر کے تابع ایسا واقعہ ہوا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، اس وقت نسبت ایک اور دس کی نہیں رہی تھی بلکہ ۳ ہزار کے مقابل پر ایک لاکھ تھے تو نسبت بہت بڑھ چکی تھی۔پس اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو حساب پیش فرمایا آنحضرت مے کے دور میں اسی حساب کا اطلاق ہوا ہے اور ایک دو سے کچھ تھوڑا سا جب بڑھا تو اس کے مقابل پر غیر معمولی امداد کی گئی جس کو فرشتوں کی امداد بیان فرمایا گیا اور حسب موقع دشمن کی تعداد کوملحوظ رکھتے