خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 199
خطبات طاہر جلد ۱۱ 199 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء ہے۔فرمایا مومن اور صبر کرنے والا مومن وہ ہے جسے اپنے مقصد پر اتنا کامل یقین ہے اور اتنی گہرائی سے اس کو سمجھتا ہے کہ تکلیف اُٹھاتے ہوئے بھی وہ اُس صبر پر قائم رہتا ہے اور صبر کا مقصد کے فہم سے گہرا تعلق ہے۔جب انسان پر تکلیف وارد ہوتی ہے تو اس وقت اس کا مقصد دوبارہ اُس کے سامنے آتا ہے یعنی ظاہری طور پر باشعور طور پر اُس کے سامنے اُبھرتا ہے اور دوبارہ وہ اپنے مقصد کو کھنگالتا ہے اور اس وقت وہ دیکھتا ہے کہ ہاں یہ مقصد اس لائق ہے بھی یا نہیں کہ میں اس کی خاطر جان دوں اور اس کی خاطر قربانیاں پیش کروں۔یہ ایک ایسی نفسیاتی حقیقت ہے جس میں کوئی استثنی نہیں۔مذہبی قومیں ہوں یا غیر مذہبی تو میں ہوں ان کی تاریخ میں ہمیشہ ایسے صبر آزما وقت آتے ہیں جن میں مقصد پر یقین سب سے نمایاں کردار ادا کرتا ہے اور اگر اس موقع پر انسان اپنے ذہن میں یا سپاہی اپنے ذہن میں مقصد کو کھنگال کر سمجھیں کہ یہ تو بے مقصد لڑائی ہے، بے فائدہ لڑائی ہے تو وہ اپنے ہتھیار پھینک دیتے ہیں ، دل چھوڑ بیٹھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جنگ عظیم ثانی میں خصوصیت سے جرمن قوم نے اس حربے کو اپنے مد مقابل پر استعمال کیا اور پروپیگنڈا کے ذریعہ جسے وہ Fifth Column کہتے تھے ، مقصد سے تعلق کاٹنے کی کوشش کی جاتی تھی اور مقصد کو اجنبی بنانے کی کوشش کی جاتی تھی اور مقصد کو باطل اور بے معنی بنانے کی کوشش کی جاتی تھی۔چنانچہ ہندوستان میں کثرت سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ تم کن کی خاطر لڑ رہے ہو وہ لوگ جنہوں نے تمہیں اپنا غلام بنارکھا ہے۔کس قوم کی خاطر؟ کیا اپنی غلامی کو پیشگی بخشنے کے لئے تم یہ قربانیاں دے رہے ہو۔اس قسم کی با تیں قہوہ خانوں میں ہر جگہ ہوا کرتی تھیں۔تو دیکھیں قرآن کریم نے کیسی عمدہ بات بیان فرمائی ہے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی مدد کا تعلق ہے وہ مضمون دوسری جگہ بیان فرمایا لیکن جہاں ایک ایسا دعویٰ کیا ہے جو حسابی دعویٰ ہے اور اس حسابی دعوئی کے لئے کوئی قطعی منطقی دلیل ہونی چاہئے تھی اور وہ دلیل یہ بیان فرمائی کہ تم اپنے اعلیٰ مقصد کو سمجھتے ہو اس کے نتیجہ میں تمہیں صبر عطا ہوتا ہے اور یہ لوگ بے مقصد لڑائی کر رہے ہیں اور جب مشکل دور میں سے گزرتے ہیں تو اُس وقت اپنے مقصد کا کھوکھلا پن ان پر ظاہر ہونے لگتا ہے اور ان میں صبر کی طاقت نہیں رہتی۔چنانچہ آپ ابتدائی اسلامی جنگوں پر نظر ڈال کر دیکھیں تو ہمیشہ آپ کو یہ دو باتیں نمایاں طور پر کارفرما دکھائی دیں گی، مسلمانوں کو صبر عطا ہوا ہے اور دشمنوں کو بے صبری اور بہت تھوڑی