خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 198
خطبات طاہر جلد ۱۱ 198 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء نسبت کا۔چنانچہ ان آیات کی تلاوت میں نے اسی غرض سے کی ہے تا کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ اگر چہ پہلے ایک اور دس کی نسبت کا ہی ذکر ہے لیکن ساتھ ہی فرمایا ہے کہ یہ بعد کی بات ہے۔پہلے بیان کرنے میں ایک حکمت ہے میں اسی کی طرف ابھی آپ کی توجہ دلاؤں گا۔ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ اے نبی۔مومنوں کو قتال کی تحریص دلا۔اگر تم میں سے ہیں صبر کرنے والے ہوں تو وہ دوسو پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے سوایسے ہوں تو وہ ایک ہزار پر غالب آجائیں گے۔کن لوگوں پر ؟ اُن لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا۔بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ اس لئے کہ وہ لوگ سمجھتے نہیں ، نا سمجھ لوگ ہیں۔آلْنَ خَفَّفَ اللهُ عَنْكُمْ لیکن سر دست اللہ تعالیٰ تم سے رعایت کا سلوک فرماتا ہے۔وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا اور جانتا ہے کہ ابھی تم میں کچھ کمزوری ہے۔پس اب یہ دستور ہے کہ فَاِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ۔اگر تم میں ایک سوصبر کرنے والے ہوئے تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں ایک ہزار صبر کرنے والے ہوئے تو وہ دو ہزار پر غالب آئیں گے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔پس ان آیات کے ترجمہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ ابتداء میں کمزوری کا ذکر فر مایا گیا ہے لیکن جیسا کہ میں نے متوجہ کیا تھا اس سے مراد نعوذ باللہ ایمان یا صلاحیتوں کی کمزوری نہیں بلکہ پہلے ایک اور دس کی نسبت کا ذکر فرمانا یہ بات بتا رہا ہے کہ اس نسبت کا حقیقی اور سچا اطلاق حضرت محمد ﷺ اور آپ کے متبعین پر ہوتا ہے اور آپ کی برکت سے بعد میں جب اسلام میں مزید طاقتیں پیدا ہو جائیں گی، رعب بڑھ جائے گا ، اقتصادی کمزوریاں دور ہو جائیں گی ، ہتھیاروں کی کمزوریاں دور ہو جائیں گی تو وہ جو ہرمحمد ﷺ وَالَّذِينَ مَعَهُ (الاعراف: ۶۵) اور ان لوگوں میں جو آپ کے ساتھ ہیں پوری طرح چمکے گا اور ایک کو دس پر غلبہ نصیب ہونے کا دور بھی شروع ہو جائے گا۔جہاں تک دلیل کا تعلق ہے یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم اس موقعہ پر یہ دلیل دیتا ہے کہ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ۔اس لئے کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔حقیقت میں اپنے پورے مقصد کا ادراک، اُس کی گہری سمجھ اور اس پر پورا یقین ہے جو غیر معمولی طاقت پیدا کرتا ہے اور جس شخص کو اپنے مقصد کا کوئی ادراک نہ ہو، سمجھ نہ ہو کہ میں کیوں یہ کام کر رہا ہوں ، وہ طاقت ور ہوتے ہوئے بھی اندرونی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔پس ایک بہت ہی عظیم الشان نفسیاتی حکمت کی طرف متوجہ فرمایا گیا