خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 194

خطبات طاہر جلد ۱۱ 194 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء تھے تو یہ دعائیں کرتے تھے کہ اے اللہ ! مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا معاملہ ہے ان لوگوں پر میں تیرے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت روشن کرنی چاہتا ہوں اپنی صداقت ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔میری ولایت مانیں نہ مانیں مگر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ولایت ان پر ثابت ہو جائے چونکہ نیت دعوت الی اللہ کی ہوتی تھی اس لئے مردے جی اُٹھتے تھے۔خدا کے فضل سے ایسے بیمار شفایاب ہو جاتے تھے جن کے متعلق صحت کی امید بظاہر کوئی نہیں رہتی تھی اور اس کے علاوہ کثرت سے اور بھی معجزے آپ کی ذات سے ظاہر ہوئے لیکن ان پر آپ غور کر کے دیکھ لیں آپ کو ان معجزوں کی تہہ میں دعوت الی اللہ کی سچی روح دکھائی دے گی۔پس آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں دعوت الی اللہ زندہ نہیں ہوئی دعوت الی اللہ کے نتیجہ میں آپ کی قوت قدسیہ زندہ ہوئی ہے۔آپ نے دعوت کو زندہ نہیں کیا دعوت نے آپ کو زندہ کیا اور آپ میں سے ہر ایک کو دعوت الی اللہ زندہ کر سکتی ہے۔ہر شخص اگر دعوت الی اللہ کے مضمون کو سمجھ کر اس کے حق ادا کرے گا تو ہرشخص ولی بنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔دعوت غیروں کو ہی خدا کے قریب نہیں کرے گی بلکہ آپ کو خدا کے قریب تر کرتی چلی جائے گی اور جماعت میں کثرت کے ساتھ اولیاء اللہ پیدا ہوں گے۔جن کی خاطر خدا عظیم نشان دکھائے گا اور دنیا میں ہر جگہ وہ یہ نشان دکھا رہا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے کثرت سے ایسی اطلاعات ملتی ہیں کوئی عام احمدی جس کو نہ زیادہ علم ہے نہ کبھی نیکوں میں شمار ہوا۔سادہ سا عام آدمی ہے لیکن دعوت الی اللہ کی برکت سے وہ خدا کے قریب ہونے لگا اور اس کی باتوں میں اعجاز پیدا ہو گیا۔اس کے دعاوی کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمایا اور اس کی تائید میں آسمانی ہوائیں چلائیں۔پس آپ دعوت الی اللہ کے لئے تیار ہوں اٹھ کھڑے ہوں ،منصوبے حقیقی بنائیں ، ان سے دعوت کے راز سیکھیں جنہوں نے کامیاب دعوت کی ہوئی ہے۔ابراہیمی صفات اختیار کریں جو خدا تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی تھیں اور وہ راز سیکھیں جو خدا تعالیٰ نے آپ کو خود بتلائے تھے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کامیاب دعوت الی اللہ کرنے والے صحابہ کی زندگیوں پر نظر ڈالیں ان کا مطالعہ کریں اور جماعتوں کو چاہئے کہ ایسے واقعات کو کثرت کے ساتھ اپنے اخبارات میں شائع کریں یا چھوٹے چھوٹے مضامین کی صورت میں لوگوں تک پہنچائیں۔آج جو دعوت الی اللہ کے تجربے ہو رہے ہیں ان کو کثرت کے ساتھ احباب جماعت کے سامنے لانا بھی تمام ملکوں کی