خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 169
خطبات طاہر جلدا 169 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء ہے۔رمضان میں ان چیزوں سے رکنا پڑتا ہے جن کی اجازت ہے جن کے فائدے اور نقصان خوب کھول کر بیان ہونے کے باوجود بعض صورتوں میں جہاں فائدہ نقصان سے بڑھ کر ہو ہمیں ان سے استفادہ کی اجازت دی گئی ہے۔پس جائز چیزوں سے رکنا یہ خدا کی خاطر ہے یعنی ہر چیز خدا کی خاطر ہی ہے لیکن رمضان مبارک میں یا عام روزوں کے وقت انسان جائز چیزوں سے جور کتا ہے ان جائز چیزوں میں اگر نقصان ہوتا تو عام حالات میں بھی خدا روک دیتا اس لئے باوجود اس کے کہ عام فائدہ کے لحاظ سے وہ روزمرہ کی زندگی میں اپنے فائدہ کے سارے کام کرتا ہے۔رمضان میں جو زائد مشقت اٹھاتا ہے اور جائز ضرورتوں کو بھی حج دیتا ہے اور بعض صورتوں میں اس کی صحت کو خطرات بھی لاحق ہوتے ہیں۔بہت سی تنگی برداشت کرنی پڑتی ہے بہت سے کاموں میں حرج بھی واقعہ ہوتا ہے لیکن خدا کی خاطر ایسا کرتا ہے۔پس اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس کو ان معنوں میں خدا کی خاطر قرار دیا ہے کہ ایک زائد فعل ہے جو عام نیکی سے بالا ہے اور اس میں انسان ضروری نہیں ہے کہ اپنے ذاتی فوائد سمجھ کر اس پر عمل کر رہا ہو۔تبھی بہت سے لوگ ہیں کہ جب روزوں کا مہینہ گزرتا ہے تو وہ اچانک سکون میں آجاتے ہیں وہ کہتے ہیں الحمد للہ۔خدا نے موقع دیا۔بڑا بوجھ تھا اس بوجھ سے ہم نکل آئے یہ ان کی فطری آواز ہوتی ہے۔وہی لوگ ہیں جو رمضان میں سکون پاتے ہیں جو بہت اعلیٰ مقامات پر پہنچ چکے ہوتے ہیں اور وہ بھی شرط صحت اور شرط جوانی کے ساتھ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جوانی کے ایام میں ایک بار چھ مہینے کے روزے مسلسل رکھے لیکن بڑی عمر میں خود فرماتے ہیں یہ تو جوانی کے مزے تھے اب تو مجھ میں یہ طاقت نہیں رہی۔فرماتے ہیں ایک وقت تھا کہ میں پیدل ۱۲ میل چل کر بٹالے چلا جاتا تھا اور پھر واپس بھی آجایا کرتا تھا اور مجھے کوئی تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی اب میں پانچ چھ میں چلتا ہوں تو مجھے تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔کھانے میں تاخیر ہوتو میں دقت اور نقصان محسوس کرتا ہوں تو فرمایا کہ روزوں کے مزے بھی جوانی کی باتیں ہیں تو اس لئے بعض صورتوں میں روزوں سے جسم کو نقصان بھی پہنچتا ہے اور ہر حالت میں انسان یہ نیکی نہیں کرسکتا۔پس آنحضرت ﷺ یہ فرماتے ہیں کہ عام نیکیوں سے یہ مختلف چیز ہے اور خدا کی خاطر توفیق کی حد تک یہ نیکی اختیار کرنی چاہئے۔پس ان معنوں میں فَمَنْ تَطَوَّعَ کا ایک اور معنی ہمارے سامنے ابھرا کہ روزے کی نیکی