خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 163

خطبات طاہر جلد ۱۱ 163 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ۔یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جولوگوں کے لئے ہدایت ہے اور صرف عام ہدایت نہیں۔وَبَنْتِ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ۔اور ہدایت میں سے بھی جو اعلی درجہ کی کھلی کھلی ہدایت روشن ہدایات جو چمکتے ہوئے جواہر کی طرح روشن اور چمکدار ہیں وہ ہدایات قرآن کریم اپنے اندر رکھتا ہے۔وَالْفُرْقَانِ اور ایسی دلیلیں جو کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے والی ہوں، جو دن کو رات سے الگ کرنے والی ہوں وہ چوٹی کی کھلی کھلی دلیلیں بھی اپنے اندر رکھتا ہے یعنی فرقان خود مضمون کو کھولنے والی دلیل کو کہتے ہیں یا ایسی بات جو الہی شان و شوکت رکھنے کی وجہ سے اپنی ذات میں ایک چمکتا ہوا نشان بن جائے۔اس پر پھر بنت مزید لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے پہلے انبیاء کو بھی فرقان عطا کی گئی بَنْتِ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ کا یہ محاورہ میں نے پرانے انبیاء کے متعلق نہیں پڑھا۔اگر کہیں ہوگا تو میرے علم میں نہیں۔تو مراد یہ ہے کہ قرآن کریم نہ صرف ہدایت رکھتا ہے نہ صرف فرقان رکھتا ہے بلکہ ہدایت اور فرقان میں جو چوٹی کی اعلیٰ درجے کی ہدایات اور اعلیٰ درجے کی فرقان ہیں وہ قرآن کریم میں آپ کو ملیں گی۔فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ پس جو بھی اس مہینے کو دیکھے اس کا گواہ بنے یا اس مہینے کو پالے اس مہینے میں سے گزرے۔شَهِدَ کے اندر یہ سارے معنے شامل ہیں فَلْيَصُمہ تو اس کا فرض ہے کہ وہ روزے رکھے۔فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرِ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ پھر اس بات کو دہرایا گیا کہ جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو وہ دوسرے ایام میں روزے رکھے۔یہ بات ثابت کرتی ہے کہ جب پہلے اجازت دی گئی تو وہاں مَنْ تَطَوَّعَ کا مضمون اطلاق نہیں پاتا تھا۔اس سے پہلے یہی مضمون گزر چکا ہے کہ جو بھی مریض ہو یا سفر پر ہو وہ دوسرے ایام میں روزے رکھے اور اس کے معا بعد فرمایا کہ ہاں کوئی شوقیہ نفلی نیکی کرنا چاہے تو اس کے لئے بہتر ہے۔یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا تو ایک طرف خدا نے اجازت دی اور دوسرے ایام میں روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ساتھ ہی فرما دیا کہ جو شوقیہ نیکی کرے تو شوق سے کرے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہدایت ان معنوں میں اہمیت نہیں رکھتی کہ ضرور اس پر عمل کیا جائے۔عمل کر سکو تو بہتر نہ کرو تو کوئی حرج نہیں بلکہ اگر نفلی روزے رکھ لو تو اور بھی بہتر ہے۔فَهُوَ خَيْر له سے یہ غلط نہی پیدا ہو سکتی تھی اس لئے اس مضمون کو دہرایا گیا ہے اور یہاں شوق