خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد ۱۱ 161 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء ايَّا مَا مَّعْدُو دَتِ گنتی کے چند دن ہیں اور اُن میں بہت سے فوائد تمہارے لئے مضمر ہیں۔اَيَّا مَا مَّعْدُو رت میں یہ لفظ ظاہر تو نہیں ہے کہ بہت سے فوائد مضمر ہیں مگر یہ مضمون اس کے اندر شامل ہے کہ چند دن کی بات ہے اس کے مقابل پر تمہیں اتنے فوائد ہوں گے تھوڑی سی تکالیف اُٹھا لوتو نقصان نہیں بلکہ بہت سے فائدے ہوں گے۔فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا اَوْ عَلَى سَفَرٍ۔ہاں تم میں سے اگر کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو۔فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔تو اسے اجازت ہے کہ وہ دوسرے دنوں میں روزے پورے کر لے۔وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ اور وہ لوگ جو اس کی طاقت رکھتے ہوں اُن کو فدیہ طعام دینا ہو گا جو کہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔یہاں يُطيقونہ کے دو طرح سے ترجمے کئے جاسکتے ہیں۔ایک ترجمہ يُطيقُونَہ کا یہ ہو گا جو طاقت نہیں رکھتے اور ایک ترجمہ یہ ہو گا جو طاقت رکھتے ہیں تو یہ دونوں مضمون بہت عمدگی کے ساتھ اس موقعہ پر اطلاق پاتے ہیں۔جب ہم طاقت نہیں رکھتے کی بات کریں گے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ جولوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے اُن کے لئے فدیہ طعام ہے حضرت مصلح موعودؓ نے یہی معنی شمار کئے ہیں اور یہ مطلب لیا ہے کہ کچھ ایسے ہیں جو روزے کی ویسے طاقت رکھتے ہیں مگر سفر کی وجہ سے طاقت کے باوجو د روزہ چھوڑتے ہیں وہ فدیہ کے ذریعہ اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں اور احساس محرومی کو پورا کر سکتے ہیں اور يُطيقون، جہاں مثبت معنی لئے جائیں یعنی جو اس کی طاقت رکھتے ہیں تو یہاں طاقت سے مراد فدیہ کی طاقت ہوگی نہ کہ روزہ کی طاقت۔تو مطلب یہ ہوگا کہ جولوگ روزہ کی طاقت تو رکھتے ہوں مگر الہی رخصت سے استفادہ کرتے ہوئے روزہ نہ رکھتے ہوں اور انہیں نہ رکھنے کا احساس ہو اور وہ یہ طاقت رکھتے ہوں کہ کسی غریب کو کھانا کھلا سکیں تو غریب کو کھانا کھلا کر اپنے احساس محرومی کی تسکین کر لیں۔فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ اور جو شخص طوعی طور پر یہ نیکی جس کو لفظوں میں ظاہر نہیں کیا گیا کہ کون سی نیکی؟ فَمَنْ تَطَوَّعَ۔پس جو شوق سے اپنی مرضی سے کسی جبر سے نہیں اس نیکی کو اختیار کرنا چاہے تو اس کے لئے بہتر ہے اس سے غالبا فدیہ کی ادائیگی مراد ہے یعنی وہ لوگ جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اُن کو بھی فدیہ دینا چاہئے اگر وہ فدیہ دیں تو اُن کے لئے بہتر ہے۔دوسرے اس سے مراد طوعی روزوں کا ذکر ہو سکتا ہے۔نفلی روزوں کا ذکر ہو سکتا ہے، ایک تو فرضی روزوں کی بات ختم ہوئی اس موقع پرنفلی روزوں کا ذکر بھی ہونا چاہئے تھا کیا نفلی