خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 160
خطبات طاہر جلدا پھر فرمایا:۔ 160 خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء جماعت احمد یہ مسلمہ کے نزدیک آج یورپ میں رمضان المبارک کا پہلا دن ہے اور آج پہلا روزہ ہے لیکن جنگ کی ایک خبر سے مجھے معلوم ہوا کہ یہاں بہت سے دوسرے فرقوں نے جمعرات ہی کو پہلا روزہ شمار کر کے رمضان شروع کر دیا تھا۔ اس سے متعلق مختصر وضاحت پیش کرنی چاہتا ہوں۔ علم فلکیات کے ماہرین اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر چہ بعض دنوں میں چاند مطلع پر ظاہر تو ہوتا ہے اور زمین کے کنارے سے اُبھرتا تو ہے لیکن اس کی عمر اگر چھوٹی ہو اور دیکھنے والے کے ساتھ اس کا زاویہ بہت چھوٹا ہو تو کسی طرح بھی نظر آنا ممکن ہی نہیں ہے۔ خواہ مطلع کیسا ہی صاف کیوں نہ ہو لیکن وہ چاند جو چھوٹی عمر کا ہو اور اس کی عمر ماہرین نے معین کر رکھی ہے مثلاً ۱۵ منٹ سے کم عمر کا ہو تو کسی قیمت پر بھی کسی صورت میں بھی وہ نظر آنہیں سکتا۔ پس قرآن کریم ن مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ کی شرط لگائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چاند کی آنکھوں کے ساتھ رؤیت ممکن ہو اور اس کی شہادت دی جا سکے۔ پس جب ایسا چاند جو چھوٹی سی عمر کا ہو کر ، چھوٹی عمر میں ہی مر جاتا ہے وہ کسی طرح بھی آنکھ سے نظر آنا ممکن ہی نہیں تو اس پر شریعت کے احکامات کی بنیاد رکھنا کسی طرح بھی جائز نہیں کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کے زمانے میں اس قسم کا چاند نہ کبھی دکھائی دیا نہ کبھی بعد میں دکھائی دے سکتا ہے۔ پس جماعتِ احمد یہ کا موقف سو فیصد درست ہے اور بعض دوسرے مسلمانوں نے بھی اس موقف کی تائید کی ہے اور اخبارات میں اس کی تائید میں بعض خطوط بھی لکھے ہیں۔ بہر حال یہ ایسی فقہی باتیں ہیں جن میں افسوس ہے کہ امت مسلمہ میں اختلافات ہوتے ہی رہتے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے ۔ جب تک عقلیں ایک طرز فکر پر سوچنا نہ شروع کریں اور دل ہم آہنگ نہ ہوں ایسے اختلافات کا رستہ بند نہیں کیا جا سکتا۔ جن آیات کریمہ کی میں نے تلاوت کی ہے یہ رمضان المبارک سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ان کا ترجمہ یہ ہے کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر بھی روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر روزے فرض کئے گئے تھے ۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ۔ تا کہ تم تقوی اختیار کرو اور تقوی حاصل کرو گویا کہ روزے رکھنے کا مقصد تقویٰ بیان فرمایا گیا اس سے تقوی میں ترقی ہوتی ہے۔