خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 157
خطبات طاہر جلد ۱۱ 157 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۹۲ء اس کی قلبی کیفیات بھی اسی نہج پر چل پڑتی ہیں۔ابھی چند دن ہوئے ایک احمدی لڑکی جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیک اعمال ، نیک فطرت اور اچھا اثر رکھنے والی بچی ہے، کالج میں پڑھتی ہے وہ ایک لڑکی کو لے کر آئی جسے وہ ایک دفعہ پہلے بھی لے کر آئی تھی۔وہ ایک انگریز لڑ کی ہے۔جب پچھلی دفعہ وہ مجھے ملی تو اس نے چند سوالات کئے اور مجھے کہا کہ اسلام میں میری دلچسپی تو صرف اس لڑکی کی وجہ سے ہے۔یہ سب سے مختلف ہے۔اس میں سب سے زیادہ اعلیٰ اخلاق ہیں اور اس کی ذات میں ایک ایسی روحانی کشش ہے کہ میں فطرتا اپنے آپ کو اس کی طرف مائل پاتی ہوں اس لئے میں نے تو جو کچھ اثر قبول کیا ہے اس کی ذات سے کیا ہے۔اب آگے جب یہ مجھے مسائل بتاتی ہے تو انہیں سمجھنا بھی ضروری ہے کیونکہ صرف ذات کافی نہیں۔اس نے شاید چند سوال کئے یا ایک دو کئے اور باقیوں کے متعلق بعد میں بات کرنے کا فیصلہ ہوا اور وہ بچی چلی گئی۔اب جو چند دن پہلے آئی تو اُس نے کہا اس عرصہ میں میں کافی مطالعہ بھی کر چکی ہوں۔مطالعہ تو جاری رہے گا لیکن یہ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میرا دل یقین سے بھر گیا ہے اور میں بیعت کرنا چاہتی ہوں لیکن خدا کے لئے مجھے رمضان سے پہلے پہلے مسلمان بنالیں تا کہ میرا رمضان ضائع نہ جائے۔میں نے کہا تم ابھی بنو۔یہ بات جو تم نے کہی ہے اس کے بعد میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی چین محسوس نہیں کروں گا اگر میں تمہیں فوراً اسلام میں با قاعدہ داخل نہ کرلوں۔ملاقاتیں ختم ہونے پر آخر پر اُس نے بیعت کی۔آخری ملاقات تھی۔بیعت کے بعد مجھے اتنی خوشی محسوس ہوئی کہ میں نے بے اختیار ا سے کہا You have made my day اُس نے بے ساختہ اس کے جواب میں یہ کہا کہ and you have made my life میں نے کہا کہ تم نے میرا دن بنا دیا۔اُس نے کہا آپ نے تو میری زندگی بنا دی۔مگر میں دعوت الی اللہ کرنے والوں کو خوشخبری دیتا ہوں کہ جب وہ کسی کی زندگی بنائیں گے تو خدا اُن کی ایک اور زندگی بنا دے گا اور یہ ایک ایسا جاری فیض ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔اس سے محرومی ، زندگی کو ضائع کرنا ہے۔اس لئے ہر دعوت الی اللہ کرنے والے کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دعائیں کرتے ہوئے اس کام کو آگے بڑھائیں۔اپنے روحانی پھلوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ان کی لذتوں سے فیضاب ہوں اور آگے اُن کو سراج بنا دیں ایسا سراج جو اور چراغ روشن کرنے والا سراج بن جائے۔آمین