خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 156
خطبات طاہر جلد ۱۱ 156 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۹۲ء جس حد تک وہ خود مستحکم ہے۔اسوقت تک مطمئن نہ ہو جب تک وہ ساری صفات حسنہ جو اس نے اسلام سے اخذ کی ہیں اُس دوسرے شخص میں جاری کرنے کی کوشش نہ کر لے گویا اپناDuplicate پیدا کر لے۔اپنے جیسا دوسرا وجود پیدا کرے وہ یہاں وہ بے مثل ہونے والا مضمون صادق نہیں آتا جو آنحضرت ﷺ کے تعلق میں میں نے بیان کیا ہے۔یہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جس کو آپ اپنا نور عطا کر رہے ہیں وہ چراغ آپ سے بھی زیادہ روشن ہو جائے اور یہی وہ کوشش ہے جو ہر مومن کو کرنی چاہئے چراغ بنانا آپ کا کام ہے، اپنے نور کو اس میں منتقل کرنے کی کوشش کرنا آپ کا کام ہے اور پھر یہ بھی دعا کرنی چاہئیے اے خدا اگر اس کی صلاحیتیں زیادہ ہیں تو اُسے روشن تر بنادے۔ایسے احمدی آپ پیدا کریں گے تو وہ محفوظ احمدی ہیں ان تک شیطان کی رسائی نہیں ہوسکتی، ان کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے، اُس کے گرد آپ نے حصار بنا دی ہے۔ان معنوں میں دعوت الی اللہ کے جو پھل ہیں ان کو دوام بخشا جاتا ہے اور یہ وہ کام ہے جو بڑے اور چھوٹے سب برابر کر سکتے ہیں آنحضرت ﷺ کی خاتمیت کا فیض حاصل کرنا اور شاہد بننا یہ بچوں کے بس کی بھی بات ہے۔احمدی بچوں کے متعلق میں نے کئی دفعہ واقعات سنے ہیں کہ اُن کے ارد گرد کے بچے کیونکہ اُن سے مختلف دکھائی دیتے ہیں اس لئے جب ماں باپ کبھی سکول جائیں تو ان کے بچوں کے اساتذہ اُن سے واضح طور پر پوچھتے ہیں کہ تم کیسی تربیت کر رہے ہو۔تمہارے بچوں کے اخلاق اور عادات ان دنیا کے عام بچوں سے حیرت انگیز طور پر بہتر ہیں اور بہت سی جگہ احمدی بچوں کو عملاً داد دینے کے لحاظ سے کلاس کے لئے نمونہ بنا کر پیش کیا گیا۔بعض احمدی بچوں نے مجھے خطوں میں لکھا کہ ہماری استانی نے یا استاد نے ہمیں کہا کہ کلاس میں لیکچر دو کہ تم کیا ہو اور جو تم ہو یہ کس طرح بنے ہو تو شاہد تو وہ بن گئے۔اس لئے شاہد بننے کے لئے بڑھاپے کا انتظار نہیں کرنا۔بچپن سے ہی آپ شاہد بن سکتے ہیں۔بچپن ہی سے آپ کو شاہد بنانے چاہیں اور ان معنوں میں آپ کی خاتمیت کا اثر آپ کے بچوں پر پڑنا چاہئے کہ ان میں آنحضرت ﷺ کی صفات حسنہ کی جھلکیاں دکھائی دینے لگیں اور پھر وہ آگے تبشیر بھی کریں اور انذار بھی کریں۔جو احمدی طالب علم ایسا کرتے ہیں خدا کے فضل سے اگر وہ دعا گوہوں اور نیکی ہو تو ان کو پھل لگتے ہیں اور بالعموم میں نے دیکھا ہے کہ جیسا تبلیغ کرنے والا ہو عموماً اس سے فیض یافتہ نواحمدی بھی اُس کے اخلاق کی کچھ نہ کچھ جھلکیاں ضرور اخذ کر لیتا ہے۔اس کی ادائیں ویسی ہی ہو جاتی ہیں۔