خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 155
خطبات طاہر جلد ۱۱ 155 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۹۲ء لئے دعائیں کرنی ہوں گی۔ان معنوں میں اگر آپ دعوت کریں اور ان شرطوں کے ساتھ دعوت کریں تو یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ کی دعوت بے اثر اور بے ثمر رہ جائے۔چنانچہ اس کے معا بعد ایک دوسرا پہلو یہ بیان فرمایا کہ وَسِرَاجًا منيرا۔تو ایسا چراغ ہے جو اپنی روشنی کو اس طرح دوسروں میں منتقل کرتا ہے کہ وہ بھی چراغ بن جاتے ہیں یعنی ایسا خاتم ہے جو آگے چھوٹے چھوٹے خاتم پیدا کرتا ہے اور اگر چہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت بے مثل اور بے نظیر ہے مگر اپنے مرتبے اور اپنے مقام کے لحاظ سے بے مثل اور بے نظیر ہے اپنی بنیادی صفات کے لحاظ سے بے مثل اور بے نظیر ورنہ خاتمیت رہے ہی نہ۔خاتمیت کے بے مثل اور بے نظیر ہونے کے دو معنی ہیں۔ایک یہ کہ ویسا اور کوئی پیدا نہیں ہوگا۔ایک یہ کہ جس صفائی اور شان کے ساتھ آپ کو اپنی صفات دوسروں میں منتقل کرنے کی طاقت بخشی گئی ہے ویسی کبھی دنیا میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی نہ ہو سکتی ہے۔ان معنوں میں آپ کی خاتمیت بے نظیر ہے لیکن اگر خاتمیت کے بے نظیر ہونے کا یہ معنی لیا جائے کہ وہ صفات کسی دوسرے میں منتقل ہو ہی نہیں سکتیں۔وہ نقوش کسی قیمت پر آگے کسی اور میں ظاہر نہیں ہوں گے خواہ کتنی مہریں لگا ئیں تو یہ خاتمیت کے انکار کرنے کے مترادف ہے، یہ تو خاتمیت کو کالعدم قرار دینے کے مترادف ہے۔ایک طرف مہریں بناتے جائیں اور دوسری طرف مہریں مٹاتے چلے جائیں۔ایسا غیر معقول تصور خدا کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔پس ان معنوں میں آپ کو بھی خاتمہ بنا ہو گا اور اپنی صفات کو دوسروں کی طرف منتقل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی گویا ایسے سراج بننا ہو گا جو آگے چراغ روشن کرسکیں اور یہ بات بہت ہی فصیح و بلیغ مثال کے ذریعہ بیان فرمائی گئی ہے آنحضرت مہ جو چراغ روشن صلى الله فرماتے تھے وہ چراغ آنحضرت ﷺ کی مثل نہیں بن جایا کرتا تھا۔محمد مصطفی میلہ کا چراغ بے مثل اور بے نظیر رہا لیکن چراغ کی بنیادی صفات ضرور دوسرے میں منتقل فرما دیا کرتے تھے۔پس ان معنوں میں ہر دعوت الی اللہ کرنے والے کو اپنے نور کو دوسروں میں منتقل کرنے کی صلاحیت اختیار کرنی ہوگی اور یہاں دعوت الی اللہ کا ایک بہت ہی اہم نکتہ بیان فرما دیا گیا جس سے غفلت کے نتیجہ میں ہم بہت سے پھلوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔جس نے دعوت الی اللہ کی ہے اس کا فرض ہے کہ جس کو خدا کی طرف بلایا ہے۔اس کی تربیت بھی کرے اور اس وقت تک مطمئن نہ ہو جب تک اس حد تک مستحکم نہ کر لے