خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 139

خطبات طاہر جلد ۱۱ 139 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء روشنی عطا کریں گے کہ تمہارے مقابل پر دوسرے اندھیرے دکھائی دیں گے اور لوگ تمہاری طرف متوجہ ہوں گے کیونکہ تم روشنی کے نمائندہ بن چکے ہو گے۔روشنی خواہ چھوٹی سی بھی ہو وہ ضرور کھینچتی ہے۔آپ اندھیری رات میں چمکتے ہوئے ایک جگنو کو دیکھتے ہیں اور آپ کا دل خوش ہوتا ہے اور بچے لپکتے ہیں کہ کسی طرح ہمارے ہاتھ میں آجائے ہم اُسے اپنے کپڑے میں لپیٹ کر گھر لے کر جائیں دوسروں کو بھی دکھا ئیں۔پس روشنی میں ایک طبعی جذب ہے اور جتنا اندھیر از یادہ ہو اتنا ہی روشنی زیادہ کشش رکھتی ہے۔پس آج دنیا اندھیری ہے۔دنیا پر ایک تاریک رات چھائی ہوئی ہے۔آپ روشنی کا انتظام کریں۔اپنے اعلیٰ اخلاق کی روشنی کا انتظام کریں اور یہ روشنی آپ کو تقوی سے نصیب ہوگی اور اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کے لئے کھڑا ہے۔میں نے جب کہا کہ نظام جماعت آپ کی مدد کے لئے کھڑا ہے تو یہ بھی خدا کی مدد کا ایک اظہار ہے اور نہ کسی اور کا نظام جماعت کیوں آپ کی مدد کے لئے کھڑا نہیں ہوتا یا کمزوروں کی مدد کے لئے کھڑا نہیں ہوتا۔وہ جو اللہ کے نمائندے ہیں انہی کو تو فیق ملتی ہے۔پس اللہ کئی طریق پر آپ کی مدد فرمائے گا۔جب نظام کی طرف سے آپ کو آواز جاتی ہے تو وہ خدا کی آواز ہی ہوتی ہے اور اس پر اگر آپ لبیک نہیں کہیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ تقویٰ سے عاری ہیں۔پس تقویٰ کا ایک یہ معنی بھی ہے کہ اگر خود توفیق نہیں تھی تو جب باہر سے نیکی کی آواز آئی تو کم سے کم اس آواز پر ہی لبیک کہنے کی کوشش کریں۔پس اس طرح جماعت احمدیہ میں متقی لوگ پیدا ہوں گے اور جتنے متقی لوگ پیدا ہوں گے اتنے ہی دعوت الی اللہ کو زیادہ پھل لگیں گے۔پس اب آخر پر میں یہ گزارش کروں گا کہ اپنے گھروں میں اب یہ بات رائج کر دیں اگر آپ اکیلے داعی الی اللہ ہیں تو اپنا منصوبہ بنائیں اور گھر میں بچوں کو بھی آمادہ کریں، بیوی کو بھی اس سکیم میں شامل ہونے کے لئے آمادہ کریں اور پھر جب بچے منصوبے بنا ئیں تو آپ ان سے منصوبہ لے کر ان کے ساتھ بیٹھا کریں اور ان کو بتائیں کہ اس منصو بہ میں یہ یہ کمزوری ہے آگے وہ منصوبہ تفصیل سے کیسے بناتا ہے اس کا میں انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں ذکر کروں گا۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کیونکہ اس وقت دنیا کو دعوت الی اللہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور ایسے عالمی حالات پیدا ہور ہے ہیں کہ لوگ دعوت الی اللہ قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔بہت زیادہ توجہ ہے۔میں نے جیسا کہ ایک دفعہ پہلے بھی بتایا تھا قادیان کے سفر پر مجھے یہ تجربہ