خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 138

خطبات طاہر جلداا 138 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء منصوبے میں اس کو ضرور داخل کریں ۔ پھر قوام ہونے کی حیثیت سے آپ کو اپنے بچوں کے اخلاق کے متعلق بھی منصوبہ بنانا ہو گا اگر منصوبہ بنانے والا باپ ہے اور اگر منصوبہ بنانے والی ماں ہے تو چونکہ گھر کی سپرداری اس کے پاس ہے اس لئے اسے بھی اپنے بچوں کا منصوبہ بنانا ہوگا اور اپنے خاوند کی اصلاح کرنے کے لئے بھی اُسے کچھ منصوبہ بنانا ہوگا ۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعض عورتیں مجھے خط لکھ دیتی ہیں اور پھر میں کوشش کرتا ہوں ۔ نظارتیں حرکت میں آتی ہیں ۔ ذیلی تنظیمیں حرکت میں آتی ہیں ۔ دور دراز تک بعض دفعہ ان کے درد کی آواز کا رد عمل پیدا ہوتا ہے اور خدا کافر خدا کا فضل ہے ۔ یہ جماعت احمدیہ پر اللہ کا احسان ہے ورنہ دنیا کی اور کسی جماعت میں یہ ممکن نہیں کہ اس طرح کسی دور دراز کے ملک میں کوئی مظلوم عورت آواز اٹھائے اور خلیفہ وقت کے سینے سے ٹکرا کر وہ آواز نظام جماعت کو پہنچے اور اس کو بیدار کرے اور پھر دور دراز کا سفر کر کے افریقہ کے جنگلوں میں یا فجی میں یا کسی اور ملک میں ایک احمدی گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور گھر کے مالک کو بلاتا ہے کہ میں نے تم سے مخفی بات کرنی ہے اور وہ کہتا ہے کہ تمہارے متعلق خلیفہ وقت کا یہ تاثر ہے اپنی اصلاح کرو اور پھر وہ اصلاح کرتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد دونوں کی طرف سے دعاؤں کے خط ملتے ہیں کہ الحمد للہ ہم نے اطاعت کا ایسا شیریں پھل پایا ہے کہ آپ کی طرف سے اگر پیغام نہ ملتا تو شاید ہم یہ برائی کبھی محسوس بھی نہ کرتے لیکن اللہ نے فضل فرمایا اور اب ہم ٹھیک ٹھاک ہیں۔ اسی طرح بعض دفعہ احمدی بچیوں کی کمزوریاں ، بعض دفعہ بیویوں کی کمزوریاں گھر والوں کی طرف سے ہی بطور اطلاع بھجوائی جاتی ہیں اور خدا کے فضل سے نظام حرکت میں آتا ہے تو نظام آپ کی پوری طرح مدد کرنے پر مستعد کھڑا ہے اور ہم دعا ئیں بھی کرتے ہیں لیکن دعوت الی اللہ کرنے والے کو لازما اپنی اصلاح کا ، اپنے گھر کی اصلاح کا ایک منصوبہ بنانا ہوگا۔ یہ اس کے تقویٰ کی تعریف ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمادی کہ نیک بنو اور بدیوں سے بچنے کی کوشش شروع کر دو ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ تمہیں فرقان عطا فرمائے گا۔ تم میں اور تمہارے غیروں میں ایک تفریق کر دی جائے گی ۔ جس طرح رات اور دن میں اشتباہ نہیں رہتا۔ دن رات سے جدا ہے اور ہمیشہ جدا رہے گا اور رات دن سے جدا ہے اور جن میں ذرا بھی دیکھنے کی طاقت ہو وہ دن اور رات میں ذرا بھی شبہ نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرقان نصیب ہوگا۔ تمہارے اخلاق حسنہ تمہاری شخصیت کو ایسا صیقل کریں گے ،ایسی