خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 136
خطبات طاہر جلد ۱۱ 136 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء گالیاں دیتا ہے۔میرے گھر والوں کو دیتا ہے۔اگر بدقسمتی سے کوئی رشتہ دار ہمارے گھر آجائے اور میں اس کو چائے پلا رہی ہوں تو اس کا منہ بگڑ جاتا ہے کہتا ہے تم نے میر امال کیوں اس کو کھلا دیا ؟ ایسا بدنصیب اور بد خلق انسان دعوت الی اللہ کے لائق کیسے ہوسکتا ہے اور وہ یہ نہیں سوچتا کہ صرف یہی نقصان نہیں ہے بلکہ یہ ظلم ایسا ہے جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ ایسے شخص سے ضرور مواخذہ کرے گا۔کسی کی بچی تمہارے گھر آئی تو اس کے ساتھ تم اس قسم کی بدتمیزیاں کرو اور اس کی زندگی اجیرن کر دو لیکن وہ بے بس ہو اور تمہارے مقابل پر بے اختیار ہو، ذرا احتجاج کرے تو تم اس کو بدنی سزائیں دو اور کہو کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ بدنی سزا دو۔یعنی قرآن کریم پر بھی حملہ، حدیث پر بھی حملہ۔کلام اللہ پر بھی اور سنت پر بھی حملہ اور ان سب کو تحریف کے ساتھ ، اپنی زبان اور اپنے عمل کی تحریف کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر کے تم ساری دنیا پر ظلم کر رہے ہوتے ہو اور اسلام کی ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہو جسے کوئی مہذب دنیا میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔پھر دعوت الی اللہ کو بھی نکلتے ہو اپنے نام بھی لکھوا دیتے ہو۔اس لئے اگر اور کچھ نہیں تو مظلوم کی بددعا سے ہی ڈرو۔وہ عورت جو نسبتی اور بے بس ہے اس کو اپنے گھر ڈال کر اس پر زیادتیاں ، اس کے رشتہ داروں پر زیادتیاں ، ایسی کمینی حرکتیں کہ اگر اس کا کوئی عزیز چائے پی لے تو تم بھر جاؤ کہ میرے پیسے کو تم اپنے عزیزوں پر تقسیم کر رہی ہو حالانکہ قرآن کریم نے ذی القربی کا جو حکم دیا ہے کہ خبر دار ہم تمہیں نیکی کی نصیحت کرتے ہیں خیرات کی نصیحت کرتے ہیں لیکن ذی القربی کو نہیں بھولنا تو ذِي الْقُرْبی میں بیوی اور اس کے بھائی ، اس کے ماں باپ ، اس کے غریب رشتے دار سب شامل ہوتے ہیں اور تمہارا اخلاقی فرض ہے کہ ان کا خیال کرو۔ان سے حسن سلوک کرو عزت کا سلوک کرو اور رحمی رشتوں کوتوڑو نہیں۔پس یہاں جب آپ بد اخلاقی کرتے ہیں تو اس کا ایک اور بد نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ایسے گھر میں آپ کسی کو دعوت پر بلا نہیں سکتے اور جب آپ منصوبہ بنائیں گے تو اس منصوبے میں یہ بات بھی شامل ہونی چاہئے کہ میں اپنے دوستوں کو کبھی کبھی دعوت پر بلاؤں، بیوی اپنی سہیلیوں کو اپنے گھر دعوت پر بلائے ، بچے اپنے دوستوں کو اپنے گھر دعوت پر بلائیں اور گھر میں لا کر دکھائیں کہ گھر ہوتا کیا ہے آپس کے تعلقات ان کو دکھائی دیں ایک پیار اور محبت کی جنت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں وہ محسوس کریں کہ اسلامی گھر میں تو آئندہ کی جنت کا وعدہ نہیں بلکہ اس دنیا کی جنت