خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 135

خطبات طاہر جلد ۱۱ 135 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء ان عورتوں کو سیدھا رکھنا ہے خواہ ڈنڈے کے ساتھ سیدھارکھنا پڑے ، بدتمیزی کے ساتھ سیدھا رکھنا پڑے گالی گلوچ دے کر سیدھا رکھنا پڑے یہ ہمارا کام ہے۔اس لئے عورت ذات کوٹھیک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ محکم ہو، رعب ہو اور اس کی مجال نہ ہو کہ خاوند کی مرضی کے خلاف کوئی بات کر سکے۔یہ اس آیت پر تہمت ہے اور ایسی تہمت ہے جس نے سارے اسلام کو دنیا میں بدنام کر رکھا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس غلط تشریح کا کوئی رستہ ہی باقی نہیں چھوڑا۔فرمایا خیــر کــم خـيـر کـم لاهله صلى الله وانا خیر کم لاهله - آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ قو ام تھے اور آپ کے قو آم ہونے نے کبھی بھی بدخلقی کا مظاہرہ نہیں کیا۔کبھی بھی بد خلقی کا لباس نہیں اوڑھا تو وہ کیسے بدقسمت اور بدنصیب قو آم ہیں جو رسول اللہ اللہ کی تو امی سے سبق لینے کی بجائے ایسے غلط معنی کرتے ہیں جن کا اس آیت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر غور کریں کہ کس طرح وہ حمل کے ساتھ اور حوصلے کے ساتھ اپنی بیگمات کی بعض دفعہ سخت باتیں بھی سن لیا کرتے تھے۔تکلیف دہ باتوں پر بھی اپنے آپ کو دکھی محسوس کرتے تھے مگر کبھی ایک دفعہ بھی حضرت اقدس محمد ﷺ نے گھر میں بد کلامی نہیں کی۔ایک دفعہ بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔پس تو آم کے کیا معنی ہیں آپ آنحضرت ﷺ سے سیکھیں۔پھر آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کی بدتمیزیاں قابل مواخذہ ہیں اور خدا کے نزدیک یہ یقیناً پکڑی جائیں گی۔چنانچہ اس کا ایک بد پھل کڑوا پھل تو یہ ملتا ہے کہ اولاد برباد ہو جاتی ہے۔اچھے دعوت دینے والے نکلے کہ نئی زمینیں فتح کرنے کی بجائے جو زمین حاصل تھی وہی ہاتھ سے جاتی رہی۔جس جگہ سے غیر قوموں کو فتح کرنے نکلے تھے وہ قوم ہی اپنی نہ رہی۔اپنی سرزمین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔پس دعوت الی اللہ کے وقت ایسی بدنصیبی نہیں ہونی چاہیئے۔پس منصوبے میں یہ بات شامل کریں۔خاص طور پر میں اُن احمدی بد نصیب مردوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ بعض دفعہ نمازوں میں تو بڑے پکے ہوتے ہیں ، جماعتی کاموں میں بھی آگے ہوتے ہیں لیکن گھروں میں ظلم کرتے ہیں۔وہ اپنی ساری نیکیوں کو اپنے ہاتھ سے مٹارہے ہوتے ہیں کچھ بھی اس کا باقی نہیں رہتا۔بعض دفعہ عورتوں کے بڑے درد ناک خط ملتے ہیں اور اُن کی ظلموں کی وہ داستانیں اگر سچی ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ کہتے تو یہ ہیں کہ یہ نمازی بھی ہے ، جماعت کا عہدیدار بھی ہے لیکن گھر آتا ہے تو بد تمیزیاں کرتا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر گالیاں دیتا ہے۔میرے ماں باپ کو