خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 133

خطبات طاہر جلد ۱۱ 133 خطبه جمعه ۲۱ رفروری ۱۹۹۲ء تعلق ہے۔پھر جب بدنامی والی باتوں سے نیچے اتر کر دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بدنامی والی باتیں جڑیں رکھتی تھیں اور وہ جڑیں آپ کے دل اور مزاج اور دماغ میں گہری پیوستہ ہیں۔ایک پھل آپ نے کاٹ لیا تو دوسرا پھل بھی اس جڑ سے پیدا ہو گا اور وہ بد نیتوں کی جڑ ہے، وہ خود غرضیوں کی جڑ ہے، وہ ایسی کجیاں ہیں جو فطرت کے اندر گہری پیوستہ ہیں اور جب تک ان کجیوں کو ان کی جڑوں سے کھینچ کر باہر نکال کر نہ پھینکا جائے ایک شاخ کو کاٹیں گے تو دوسری شاخ پھر نکل آئے گی۔ایک تنا گرے گا تو دوسرا تنا اپنی جڑوں سے باہر آجائے گا اور پھر انسان کو نمبر ۲ طریق پر اپنی فطرت کا گہرا اندرونی جائزہ لینا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ میں مالی لین دین میں کمزوری کیوں دکھاتا تھا، کیا تو کل کی کمی ہے یا طبیعت میں شوخی اور چالا کی ہے؟ سچ جھوٹ کا فرق معلوم نہیں اور بدی کا اور حرام پیسے کا بھی اتناہی مزا آتا ہے جتنا حلال پیسے کا۔تو یہ بیماری جو ہے زیادہ گہری ہے اور یہ صرف لین دین سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ اور بہت سے اس کے اثرات ہیں جو سارے انسانی اخلاق کے دائرے پر پھیلے ہوئے ہیں۔اس طرح منصوبہ بنا ئیں گے تو پھر منصو بہ در منصوبہ بننا شروع ہو جائے گا۔یہ تو بیرونی حالت سے تعلق رکھنے والا منصوبہ ہے۔ایک اندرونی حالت ہے جو گھر میں ظاہر ہوتی ہے۔آپ کا اپنے بچوں سے سلوک ہے، آپ کا اپنی بیوی سے سلوک ہے، آپ کا اپنی والدہ سے، اپنی بہنوں سے سلوک ہے ، اپنی بیوی کی والدہ اس کی بہنوں سے اس کے باپ اس کے رشتہ داروں سے سلوک ہے، ایک اور دنیا آپ کے گھر سے نکل آئی جو گھر کی دنیا ہے لیکن بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس کا تعلق نہ صرف آپ کی موجودہ زندگی سے ہے بلکہ آپ کی اولاد کی قیامت تک کی آئندہ زندگی سے ہے۔آپ باہر بدنام ہوں گے تو غیر آپ کی بات کو توجہ سے نہیں سنے گا یا وزن نہیں دے گالیکن گھر میں اگر آپ بگڑ گئے تو آپ کی نسلیں بگڑ جائیں گی۔بجائے اس کے کہ آپ دعوت الی اللہ کے ذریعہ دوسروں کو باہر سے اسلام کے اندر داخل کرنے والے بنیں یا خدا کی راہ میں ان کے قدم کھینچیں ان کو دھکا دے کر پیچھے ہٹانے والے بن جائیں گے۔ان کو ہی نہیں اپنی اولا د کو بھی وہ تو آپ کے نہیں بن سکے لیکن آپ کی اولاد جو آپ کی کہلاتی تھی وہ بھی آپ کی نہیں رہے گی۔بسا اوقات بداخلاق خاوندوں کی بیویاں ایمان کھو بیٹھتی ہیں اور ان کی اولا دان کو اس طرح دیکھتی ہے کہ ذلیل لوگ ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔نیکیاں باہر کی دنیا کے لئے دعوؤں کے طور پر ہیں