خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 126

خطبات طاہر جلدا 126 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء - ہو جائے تو اس کا بھی فرض ہے کہ اللہ جوابی کارروائی کرتا ہے مومن بھی جوابی منصوبہ بنائے لیکن اگر اطلاع نہ ہو تو اُسے کامل یقین رکھنا چاہیے کہ اس کا خدا ہمہ وقت اس کا نگران ہے اور دشمن کے شر پر اطلاع رکھتا ہے اور اس کے شر کو توڑنے کے لئے اُس کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے خدا تعالیٰ بھی جوابی منصوبے بنا رہا ہے۔ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ - خَيْرُ الْمُكِرِينَ کا مطلب ہے کہ دشمن تو نا پاک اور گندے منصوبے بناتا ہے لیکن اللہ اچھے اور پاک منصوبے بناتا ہے۔ اچھے اور گندے میں فرق ایک تو مقصود کے لحاظ سے ہوا کرتا ہے ، ایک لائحہ عمل کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص بعض دفعہ یہ کہتا ہے کہ میں نے نیک مقصود سا منے رکھا ہوا ہے ۔اس لئے جھوٹ کے ذریعہ نیک مقصد حاصل کرلوں، شر کے ذریعہ نیک مقصد حاصل کروں، کیا فرق پڑتا ہے اور جماعت کے اکثر معاندین کا یہی حال ہے۔ وہ سمجھتے ہیں جماعت کے خلاف جھوٹ بھی جائز ، گند بھی جائز ، ہر قسم کی لغو حرکت جائز کیونکہ ہمارا اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ جس کو ہم شر سمجھتے ہیں جس کو ہم جھوٹ سمجھتے ہیں مٹادیں ۔ پس اس کو مٹانے کے لئے ہم ہر قسم کے گندے حربے کو استعمال کر سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا ایسا نہیں کیا کرتا اللہ کا جوابی مکر جھوٹ اور گند اور بہتان اور ہر قسم کے ظلم اور سفا کی کے مقابل پر ایک صاف ستھرا پروگرام ہوتا ہے جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کو کسی غلط کام میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ اس کا منصوبہ ہمیشہ صاف رہے گا۔ پس جماعت احمدیہ کی تاریخ بھی اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی جماعت کو دشمن کے منصوبوں کی اطلاع ہوئی ہے جھوٹ کے مقابل پر کبھی جھوٹ نہیں بولا گیا، شر اور فتنہ پھیلانے کے مقابل پر کبھی شر اور فتنہ نہیں پھیلایا گیا۔ بعض دفعہ یہ بھی بہتان لگاتے ہیں کہ احمدیوں نے شیعہ سنی فساد برپا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھٹو صاحب اپنے آخری دور حکومت میں اپنی جان اسی طرح بچایا کرتے تھے کہ ہر فساد کی ذمہ داری احمد یوں پر ڈالنے کے لئے وہ Intelegence کے ذریعہ پہلے ہی یہ خبریں پھیلا دیا کرتے تھے، اخباروں میں اشتہار دے دیا کرتے تھے کہ احمدی فلاں شرارت کرنے لگے ہیں اس سے بچ جاؤ حالانکہ احمدیت کے مزاج میں ہی وہ بات نہیں چنانچہ بسا اوقات ایسا ہوا کہ جب احمدیوں کے خلاف کوئی الزام لگایا گیا یعنی اسی قسم کا گندہ قتل کا الزام ، شر پھیلانے کا الزام تو بڑے چوٹی کے تجربہ کار پولیس افسروں نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہم احمدیت کا مزاج جانتے ہیں یہ ہو ہی نہیں سکتا ان کی سو سالہ تاریخ