خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 7

خطبات طاہر جلد ۱۱ 7 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۹۲ء امتحان تھا۔مجھے ہمیشہ ڈر رہا کہ اگر میرا ضبط ٹوٹ گیا تو یہ لوگ بچوں کی طرح پلک پلک کر رونے لگیں گے۔میری جدائی ان پر اور بھی زیادہ سخت ہو جائے گی اور خدا کے ہاں جو علیحدگی کے بقیہ دن مقدر ہیں وہ پہلے سے زیادہ تلخ ہو جائیں گے۔اس لئے میں نے حتی المقدور کوشش کی کہ ہنستے ہوئے، مسکراتے ہوئے ، ہاتھ اٹھاتے ہوئے سب کو سلام کہوں ،سب کے سلام قبول کروں اور حوصلے بڑھاؤں لیکن جو دل کی کیفیت تھی خدا کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔بڑے سخت امتحان سے گزرنا پڑا۔ان کے آنے کے نظارے بھی عجیب تھے۔ان کی واپسی کے نظارے بھی عجیب تھے۔ایک موقع پر میری بچیاں بسوں کی رخصت کا منظر دیکھنے کے لئے گئیں۔ہمارے خاندان کے بھی بہت سے لوگ اس میں جارہے تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ سب لوگ کھڑکیوں سے اُلٹے پڑتے تھے۔گویا وہ زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے نہیں جانا۔ہم نہیں جانا چاہتے۔چنانچہ میری بچی نے اپنی کسی عزیزہ سے پوچھا کہ تم کیوں الٹ رہی ہو تو اس نے کہا۔یہاں سے جانے کو دل نہیں چاہتا۔دل چاہتا ہے کھڑکی سے چھلانگ لگا دوں۔پس یہ وہ کیفیتیں ہیں جن کو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی فصاحت و بلاغت جیسا کہ حق ہے ان کو سمیٹ سکے اور ان کو زندہ جاوید تحریروں میں تبدیل کر سکے۔لیکن یہ عجیب دن تھے جو گزر گئے۔اب ہمیں آئندہ کا سوچنا چاہئے۔یہ جلسہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا نہ صرف ایک تاریخی جلسہ تھا بلکہ تاریخ ساز جلسہ تھا اور تاریخ ساز جلسہ ہے۔جو لطف ہم نے اٹھائے وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ زندہ رہیں گے لیکن وہ لطف اس لئے زندہ نہ رہیں کہ ہم جیسے ایک نشئی ایک نشے کی حالت میں لطف اٹھاتا ہے ویسے اس سے لطف اٹھاتے رہیں۔وہ لطف اس لئے زندہ رہنے چاہئیں تاکہ ہمیشہ ہمیں عمل کے میدان میں آگے بڑھاتے رہیں اور ہماری ذمہ داریاں ہمیں یاد کراتے رہیں اور یاد کرائیں کہ ایک نیا دور ہے جس میں احمدیت داخل ہو چکی ہے۔ترقیات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ہمارے سامنے کھلا پڑا ہے۔ایسے نئے ایوان گھل رہے ہیں جن میں پہلے احمدیت نے کبھی جھانکا نہیں تھا۔چنانچہ میں یقین رکھتا ہوں کہ خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کی جماعتوں میں یہ احساس بیداری پیدا ہوا ہے اور بعض جگہ جو چھوٹی چھوٹی پژمردہ سی جماعتیں تھیں۔جن کے خطوں سے امید کی کوئی غیر معمولی کرن نظر نہیں آتی تھی۔جن کے خط کچھ مجھے بجھے ، کچھ دبے دبے ایسا منظر پیش کرتے تھے جیسے وہ احمدیت کے ساتھ