خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 105
خطبات طاہر جلد ۱۱ 105 خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۹۲ء دعوت الی اللہ کے لئے پہلے انفرادی منصوبے بنائیں اورسب سے پہلا منصوبہ دعا کا بنائیں۔خطبه جمعه فرموده ۱۴رفروری ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔اللهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمُوتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِى لِأَجَلٍ مُّسَمًّى يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُونَ (الرعد:۳) پھر فرمایا:۔گزشتہ خطبہ میں، میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ دعوت الی اللہ کے لئے ضروری ہے کہ دل میں ایک جوش پیدا ہو جائے ، ایک گہری لگن اس کام سے پیدا ہو جائے جو محبت اور عشق میں تبدیل ہو جائے اور انسان نہ صرف دوسروں کے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنے دل کی مجبوری سے دعوت الی اللہ میں مصروف رہے اور اس کی زندگی کا سکون اور چین دعوت الی اللہ کے ساتھ وابستہ ہو جائے۔یہ وہ طریق ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا میں عظیم روحانی انقلاب برپا کرتا ہے۔ولولے اور محبت اور جوش کا اپنا ایک مقام ہے لیکن صرف یہی کافی نہیں کیونکہ ولولے اور جوش اور محبت ایندھن سے مشابہت رکھتے ہیں جو توانائی مہیا کرتے ہیں لیکن محض پڑول لے کر تو آپ سفر نہیں کر سکتے اس توانائی کے استعمال کے لئے جتنی اچھی مشین آپ کو مہیا ہو گی اتنا ہی بہتر اس توانائی کا نتیجہ نکلے گا اور اس سے