خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 6

خطبات طاہر جلد ۱۱ 6 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۹۲ء پہنچے اور خدا کے فضل کے ساتھ ان کی کیفیت یہ تھی کہ دن بدن اُن کے اندر پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔جب آغاز میں ان سے تعارف ہوا تو ان کی نگاہوں میں کچھ تھوڑی سی اجنبیت تھی، کچھ پہچان کی کوشش کر رہے تھے یہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ کیا چیز ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور کچھ فاصلہ ساتھا لیکن آنا فانا وہ فاصلے قربتوں میں تبدیل ہو گئے اور اسکے بعد ان کا جوش اور ولولہ نا قابلِ بیان تھا۔آج تک ہم نے کبھی کسی جلسہ سالانہ میں ایسے نظارے نہیں دیکھے جیسے ہندوستان کی دُور دُور سے آئی ہوئی جماعتوں کے اخلاص کے نظارے ہم نے دیکھے۔ان میں کیرالہ کے غرباء بھی تھے۔ان میں آندھرا پردیش کے بھی تھے لیکن یہ ایسا موقع تھا جس میں غرباء کو امراء سے الگ کرنا شاید زیادتی ہو۔یہ وہ موقع تھا جہاں واقعۂ محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔جہاں کوئی تفریق نہیں رہی تھی ، سارے دل کے امیر دکھائی دیتے تھے، سارے حضرت محمد مصطفی ملی صلى الله اور آپ کے اس غلام کامل کے شیدائی دکھائی دیتے تھے جس نے قادیان کی بستی میں جنم لیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام دنیا میں اس کے دل سے نور کے سوتے پھوٹے۔پس یہ وہ نظارے ہیں جن کے بیان کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔شاید ویڈیو والوں نے کچھ ریکارڈ کئے ہوں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو اس فضا میں دم لے رہے تھے جنہوں نے ان کے جذبے، ان کے ولولے دیکھے وہ کسی طرح بھی بیان کی حد میں نہیں آسکتے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں نے کیا پایا اور کیا لے کر لوٹے ؟ مگر میں یہ یقین رکھتا ہوں اور اس میں مجھے ذرہ بھی شک نہیں کہ خدا کے فضل سے وہ اگر پہلے کسی لحاظ سے کمزور بھی تھے تو یہاں سے مالا مال ہو کر لوٹے ہیں اور کسی چیز کی کوئی کمی انہوں نے محسوس نہیں کی۔اب ایک دور ہے جو شروع ہونے والا ہے لیکن اس سے پہلے میں پاکستان کے احمدیوں کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک لمبے عرصہ کے بعد پاکستان کے غرباء کو بھی یہ توفیق ملی کہ وہ کسی حد تک یعنی سارے تو نہیں آسکتے تھے ناممکن تھا لیکن کسی حد تک یہاں پہنچ سکیں اور جن کے لئے انگلستان پہنچ کر ملاقات ناممکن تھی ان کو بھی خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ قریب آئیں اور یہاں سے آکر جلسہ میں شمولیت کریں۔میرے ساتھ ملاقاتیں کریں اور قریب سے دوبارہ دیکھنے کا موقع ملے۔ان کی کیفیت بھی نا قابل بیان تھی۔اکثر یہ صورت حال تھی کہ میرے ضبط کا بڑا سخت