خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 101
خطبات طاہر جلدا 101 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء نے بھی ان کو دیکھا ہوا ہے اس شکل وصورت کے تھے۔یہ وہ بزرگ صحابی تھے جو اس زمانے میں سادہ سے کپڑوں میں عام لباس میں غریبانہ چال کے ساتھ چلتے تھے اور ہم وہم بھی نہیں کر سکتے تھے کہ خدا کے حضور ان کا کتنا بڑا مرتبہ اور مقام ہے لیکن خدا نے ہمیں یہ سعادت عطا فرمائی تھی کہ ان پاک چہروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے۔پس ان قبروں پر گزرتے ہوئے دعا ئیں بھی کرتا تھا اور اپنی سعادت پر خدا کا شکر بھی ادا کرتا تھا۔میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ وہ صحابہ نہیں جن کا انصار کی جماعت میں قرآن کریم میں ذکر موجود ہے۔یہ وہ ہیں جنہوں نے آخرین کو اولین سے ملایا تھا اور خدا نے ان سے اپنے وعدے پورے کئے۔اتنی بڑی مخالفت کا طوفان تھا کہ آج پاکستان میں جو مخالفت ہو رہی ہے اُس مخالفت کے سامنے اس مخالفت کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں ملاں پھرے اور ہندوستان سے لے کر عرب ممالک کے آخر تک انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف عناد اور دشمنی کی ایک آگ لگادی اور بڑے فخر سے یہ اعلان کئے کہ ہم نے تمام دنیا میں اس شخص کے خلاف ایسی نفرت پیدا کر دی ہے کہ ایک آگ بھڑک رہی ہے جو اس کو خاکستر کر کے رکھ دے گی۔تمام دنیا کے علماء نے اس کو دنیا کا بدترین انسان قرار دے دیا اور یہ فتویٰ دیا کہ اس کو مارنا، لوٹنا قتل کرنا اس کی اولا دو جان عزت پر ہاتھ ڈالنا سب کچھ خدا کے نزدیک جائز ہے بلکہ باعث ثواب بن گیا ہے۔اس کو اور اس کے ماننے والوں کو جس کے بس میں آئے جس طرح لوٹے، مارے، کوٹے ، جو چاہے اس کے ساتھ سلوک کرے۔یہ دین کا فتویٰ ہے کہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو خدا کے حضور بڑی عزت پائے گا۔اس قسم کی آگ تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چاروں طرف بھڑ کائی گئی۔اس آگ کو گلزار بنانے والے وہ صحابہ تھے جگہ جگہ ابراہیمی طیور تھے جو پیدا کئے گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کے ساتھ خدا نے اپنے سارے وعدے پورے کئے ورنہ آج آپ یہاں نہ ہوتے۔آج آپ ہندوستان میں بھی نہ ہوتے کہیں آپکا وجود مکن نہیں تھا کیونکہ جس قسم کی مخالفت اور ملیا میٹ کر دینے والی نفرتیں پھیلا دی گئی تھیں وہ ایسی نفرتیں تھیں کہ یوں لگتا تھا کہ نظریں لوگوں کو کھا جائیں گی۔ان واقعات کو آپ پڑھیں جن مشکلات سے احمدی اس زمانہ میں گزرے ہیں تو آج بھی دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کس طرح ان معصوموں کو کتنی بڑی بڑی تکلیفیں دی گئیں لیکن جب خدا نے فَتْحُ قَرِیب فرمایا تو اس زمانہ کے لحاظ سے جو فتح ہوئی وہ بہت بڑی فتح تھی۔احمدیت