خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 96

خطبات طاہر جلد ۱۱ 96 96 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء کرے۔ایک نصرت آغاز میں ہوگی اس کے نتیجہ میں آپ کو نصیر یا انصار بنایا جائے گا۔اور ایک نصرت اس کے بعد آئے گی جو اس کے نتیجہ میں ظاہر ہوگی اس مضمون کو آپ سمجھیں تو خدا تعالیٰ کی دو صفات کے مضمون کو آپ سمجھ لیں گے کہ خدا تعالیٰ اول بھی ہے اور آخر بھی ہے۔پہلا بھی ہے اور سب سے بعد بھی ہے یعنی خدا کے بغیر کوئی برکت والی بات شروع ہو ہی نہیں سکتی اور جب آپ شروع کرتے ہیں تو ہر نیک انجام جو ظاہر ہوتا ہے ہر نیک نتیجہ جو نکلتا ہے اس میں بھی آپ خدا تعالیٰ کا تصور دیکھتے ہیں اور بالآخر خدا کو اپنی جزا دینے کیلئے آخر پر منتظر پاتے ہیں۔پس نصیر بننے کے لئے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بار بار یہ دعامانگنی ضروری ہے کہ اے خدا ہمیں نصیر عطا فر ما یعنی روحانی طور پر ہمارے دلوں کو طاقت بخشنے والا، ہمارے دماغوں کو اس نہج پر چلانے والا ، ہماری سوچوں کو روشن کرنے والا ، ہماری کوششوں میں برکت ڈالنے والا، ایسا نصرت کرنے والا عطا فرما جو سلطان ہو جس میں یہ طاقت ہو کہ جب کسی کی مدد کرے تو اس کی مدد کامیابی اور قوت کے ساتھ کرے اور اس مدد کا نیک نتیجہ ظاہر ہو۔پس آج کے خطبہ میں اور شاید اس کے بعد بھی ایک دو اور خطبوں میں میں جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے ہر فرد بشر کو جو احمدیت سے تعلق رکھتا ہے براہ راست یہ پیغام دیتا ہوں کہ آپ تبلیغ کریں اور تبلیغ اس طرح کریں جس طرح قرآن کریم میں ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کی تفصیل میں کچھ تعلق اور باتیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس آیت میں جو عمومی تصویر کھینچی گئی ہے اسے ہم اُردو میں اس طرح پیش کر سکتے ہیں کہ تن من دھن کی بازی لگا دو اپنا سب کچھ اس راہ میں جھونک دو کچھ بھی باہر نہ رکھو۔یہ وہ چیز ہے جو گن سے ن رکھتی ہیں جیسے کسی چیز کی لو لگ جاتی ہے، کسی چیز سے انسان کو عشق ہو جائے۔وہ کیفیت ہے جو بیان فرمائی گئی ہے اور یہ ایک مضمون نگاری نہیں بلکہ فی الحقیقت ہے یہی معنی ہیں اور اس کے سوا کوئی اور معنی نہیں بنتے ہیں جو اس آیت میں بیان فرمائے گئے کیونکہ عشق کے بغیر انسان نہ تو اپنا مال پیش کر سکتا ہے نہ جان پیش کر سکتا ہے۔کوئی پاگل تو نہیں ہو گیا کہ کسی کو اپنا سب کچھ دے دے، مال بھی دے دے اور جان بھی دے دے۔یہ مضمون عشق سے تعلق رکھتا ہے اگر انسان محبت میں پاگل ہو تب ہی وہ ایسی حرکت کرتا ہے ورنہ کوئی سر پھرا تو نہیں کہ بے وجہ کسی کو اپنا مال بھی دے دے اپنی جان بھی اس