خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد ۱۱ 95 95 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَل لِّي مِن لَّدُنْكَ سُلْطَنَّا نَصِيرًا (بنی اسرائیل (۸) کہاے میرے اللہ ! مجھے اس اعلیٰ مرتبہ اور اس اعلیٰ مقام پر فائز فرما۔مجھے اس اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فر ما آدخِلْنِی سے مراد مجھے داخل کر دے۔مُدْخَلَ صِدْقٍ، سچائی کے ساتھ کس میں داخل کر دے؟۔یہاں مراد یہ ہے کہ اس مقام محمود کی طرف لے جا۔اس اعلیٰ مرتبہ پر پہنچا دے جس کا تو محمد مصطفی علیہ سے وعدہ فرماتا ہے اور آپ کی غلامی میں اس کا کچھ نہ کچھ فیض ہمیں بھی میسر آنا ہے۔ساتھ ہی میں نے توجہ دلائی کہ اس دُعا کا انجام یہ بیان فرمایا گیا اور آخرت پر یہ نتیجہ نکالا گیا کہ وَ اجْعَلْ لِي مِن لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا۔میں کامیابی کی طرف کوئی بھی قدم کامیابی کے ساتھ اُٹھا نہیں سکتا جب تک مجھے تیری طرف سے کوئی مدد میسر نہ ہو جو سلطان ہو جو غالب آنے کی طاقت رکھتا ہو ایسا مددگار مجھے ضرور مہیا فرما کہ اس کے بغیر میرا سفر طے نہیں ہوسکتا تو یہاں بھی ایک نصیر کا ذکر ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی نصرت کرنے کے لئے بھی ایک کا نصیر کی ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ نصیر ملکوتی طاقتوں سے تعلق رکھنے والا نصیر ہے۔اگر چہ دنیا میں بھی یہ نصیر میسر آتے ہیں اور بارہا ہم نے ان دعاؤں کے نتیجہ میں انسانوں کو ان معنوں میں نصیر بنتے دیکھا ہے جن معنوں میں قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے لیکن میں سمجھتا ہوں که اول طور پر یہاں ملکوتی طاقتیں مراد ہیں یہاں جبرائیل کی طرف اشارہ ہے اور جبرائیل کے تابع جتنی قوتیں انسان کو نیکی کی طرف لے جاتی ہیں اور اندھیروں سے نکالتی ہیں ان سب طاقتوں سے مدد مانگنے کی ایک التجا ہے جو اس دُعا میں کی گئی ہے۔پس خدا تعالی کی نصرت کرنے کے لیے بھی خدا تعالیٰ سے نصرت مانگنی پڑے گی۔ايَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کا مضمون آپ دیکھیں ہر جگہ پھیلا پڑا ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ نہیں ہے جو اس دعا کے اثر سے باہر ہو۔تو پہلی نصیحت میری آپ کو بھی یہی ہے جیسا کہ تمام عہدیداران کو کی تھی کہ بحیثیت احمدی ہر شخص کا کام ہے کہ وہ نصرت کے لئے تیار ہو اور نصرت کے لئے ہر وقت اللہ سے نصرت طلب