خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 5
خطبات طاہر جلد ۱۱ 5 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۹۲ء تشریف لائے کہ آج تک سو سالہ تاریخ میں کبھی ان جگہوں سے اس کثرت سے احباب جلسہ سالانہ میں شریک نہیں ہوئے۔بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں بھاری اکثریت غربت کا شکار ہے اور اتنی غربت کا شکار ہے کہ ان کے لئے ریل کے تیسرے درجہ کے سادہ دوطرف کے کرائے اکٹھا کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس طرح انہوں نے قرض اٹھائے یا کسی اور صاحب دل آدمی نے ان کی ضرورت کو محسوس کر کے ان کی مدد کی مگر میں نے جو کثرت سے نگاہ ڈالی تو بھاری اکثریت ایسی تھی جو غرباء کی تھی مگر دل کے غنی تھے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی یہ تعریف ان پر صادق آتی تھی کہ الغنى غنى النفس ( بخاری کتاب الرقاق حدیث نمبر ۵۹۶۵)سنو اغنی یعنی امیری اور تو نگری اصل میں دل کی امیری اور تو نگری ہوا کرتی ہے۔وہ دنیا کی تمناؤں سے بے نیاز اس بستی میں آپہنچے جہاں ان کو سکون ملنا تھا۔جس کی راہ وہ بڑی مدت سے دیکھ رہے تھے۔ان کی آنکھوں نے وہ دیکھا جس کے متعلق مجھے بہتوں نے کہا کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ہماری تمنائیں تھیں کہ ہم اپنی زندگی میں کبھی خلیفتہ امیج کو دیکھیں لیکن سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ایسے بوڑھے تھے جو معلوم ہوتا تھا کہ زندگی کے آخری کنارے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ایسے اپاہج تھے جو کرسیوں پر بیٹھ کر آئے۔ایسے بیمار تھے جن کو ان کے رشتہ داروں نے سہارے دیئے۔قطع نظر اس کے کہ یہاں کے موسم کی سختی کے وہ عادی نہیں تھے۔اکثر ایسے علاقوں کے رہنے والے تھے کہ جہاں سارا سال گرمی ہی پڑتی ہے سردی کم سردی نام کی ہے اور حقیقت میں وہ سردی سے آشنا نہیں مگر انہی ایک دو کپڑوں میں ملبوس جو گرمیوں کے کپڑے تھے اور جن کے وہ عادی ہیں ان میں وہ تشریف لائے لیکن ان کے اندر ایک ایسا ولولہ ، ایسا جوش تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ سب سے کم ہیں جو بیمار پڑے۔وہ جو ٹھنڈے علاقوں سے آئے تھے۔وہ جن کو تن بدن ڈھانکنے کے سارے سامان میسر تھے ان میں بہت زیادہ نزلہ زکام اور بخار نے راہ پائی لیکن عجیب بات تھی کہ ان میں سے میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس کا ناک بہہ رہا ہو یا سردی سے کانپ رہا ہو۔ایک عجیب گرمی تھی جو خدا تعالیٰ نے ان کو اندر سے عطا کر دی تھی اور یہ حیرت انگیز اعجاز تھا جو عام حالات میں ممکن نہیں ہے۔ان کی اکثریت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسی تھی جنہوں نے کبھی قادیان کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا مثلاً اڑیسہ کے غریب اور تو نگر احمدی ، دل کے امیر احمدی دو ہزار سے زائد تعداد میں یہاں