خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 992
خطبات طاہر جلد ۱۰ 992 خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۹۱ء صلى الله ائیں گے جن کیلئے آپ آنحضور ﷺ کے فیض کے اثر کے تابع دعا کریں گے۔ یہ آخری بات سمجھا صلى الله عليسة کر میں اس خ اس خطبہ کو ختم کروں گا ۔ آ کروں گا ۔ آنحضور ﷺ کے فیض کے تابع اگر آپ دعا کریں تو آپ کی دعا اپنوں صلى الله کے لئے نہیں رہ سکتی ، صرف اپنوں اپنوں کیلئے نہیں رہ سکے گی ۔ آنحضور ﷺ کا فیض محسوس کرتے : وایسا کرتے ہوئے اس خاص حالت میں اگر آپ دعا کریں تو ناممکن ہے کہ آپ اپنے دشمن کے لئے بھی دعا نہ کریں۔ نا ممکن ہے کہ تمام حاضر بنی نوع انسان کے لئے دعا نہ کریں ۔ ناممکن ہے کہ آئندہ تمام آنے والی نسلوں کیلئے دعا نہ کریں ۔ ناممکن ہے کہ تمام گزرے ہوئے بنی نوع انسان کیلئے دعا نہ کریں۔ کیونکہ آنحضور کے فیض کا یہ وسیع دائرہ تھا جس میں آپ کا فیض پہنچا کرتا تھا۔ پس آپ کے فیض سے لذت پا کر آپ کے دل میں بھی اسی طرح کی ایک بے کنار موج اٹھے گی جس کا کوئی کنارہ نہیں ہوگا ، آپ کے دل کی گہرائی سے ایسی دعائیں اٹھیں گی جن سے بنی نوع انسان کو بہت سا فائدہ پہنچے گا۔ ان معنوں میں آپ فیض رساں بن سکتے ہیں اور انہی معنوں میں آپ کو فیض رساں ہونا چاہئے کیونکہ اگر آپ آج فیض رساں نہ بنے تو یہ دنیا ہلاکت کے آخری کنارے تک پہنچی ہوئی ہے ۔ کسی اور کا فیض اس دنیا کو اب ہلاکت سے بچا نہیں سکتا۔ ایک محمد مصطفی اللہ کا فیض ہے وہ آپ کے اور خدا تعالیٰ کے درمیان وسیلہ بنے ہیں اور آپ کو محمد مصطفی ملے اور بنی نوع انسان کے درمیان لازما وسیلہ بننا ہوگا۔ یہی وہ وسیلہ ہے جو آج تمام بنی نوع انسان کی نجات کا وسیلہ بنے گا اگر یہ وسیلہ نہ بنا تو بنی نوع انسان کا کچھ نہیں بن سکتا۔ یہ آج کی دنیا لا زما ہلاک ہونے والی ہے۔ اس کے اطوار تو دیکھیں ۔اس کی عادتیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی عادتوں سے کوسوں کیا، کروڑوں، اربوں میل دور جا چکی ہیں ۔ پس صلى علي صلى الله صلى الله وسیلے کے مضمون کو اپنے تک پہنچا کر ختم نہ کر دیا کریں۔ محمد مصطفی ﷺ وسیلہ صرف خدا تعالیٰ اور آپ کے درمیان نہیں تھے ، خدا تعالیٰ اور سارے بنی نوع انسان کے لئے وسیلہ بننے کے لئے آئے تھے اور صلى الله علی آپ پ کو مزید وسیلوں کی ضرورت ہے۔ پس وہ جو محمد مصطفی ﷺ سے عشق کا دم بھرتے ہیں ، جو غلامی کا دعوی کرتے ہیں، جو عہد کرتے ہیں کہ ہم آپ کی خاطر ، آپ کے ناموس کی خاطر ، آپ کے پیغام کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہو جا ئیں گے ۔ ان کو لازما وہ وسیلہ بننا ہوگا اور وسیلے کے تقدس کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے جس حد تک بھی توفیق ملے ۔ جو انسانی کمزوریوں اور بشری بے بسی کے نتیجے میں کمزوریاں لاحق ہوتی ہیں اور ہوتی رہیں گی ۔ ایسی صورت میں مجھے اللہ تعالیٰ سے بھاری