خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 988
خطبات طاہر جلد ۱۰ 988 خطبه جمعه ۲۰ / دسمبر ۱۹۹۱ء کا راز تھا لیکن جسے بنی نوع انسان کے فوائد کے لئے ان کے سامنے کھولنا ضروری تھا۔فرمایا: قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: ۱۶۳) میں ایک ایسا قیدی ہوں کہ میری تمام تر عبادتیں، میری تمام تر قربانیاں، میری زندگی، میرا مرنا ، کلیپ لمحہ لمحہ خدا تعالیٰ کا ہو چکا ہے۔میری زندگی کا ہر لمحہ اس قید میں جکڑا گیا ہے اور یہی میری لذت کا معراج ہے۔فرمایا یہی کہہ کر لوگوں کو اس طرف بلاؤ۔اگر یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہوتی تو خدا تعالیٰ اس راز کو چھپاتا ، نہ کہ ظاہر کرتا۔اگر ایسی بات تھی کہ جس سے طبیعتیں متنفر ہوتیں اور بھا گئتیں اور اسے بوجھ سمجھتیں تو خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی کہ اس راز کو مومنوں پر ظاہر کر کے فرماتا کہ یہ حال ہو گا تمہارا۔جو میرے عاشق صادق محمد ﷺ کا حال ہے اس لئے ادھر نہ آنا۔دنیا کے عاشق تو ڈرایا کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارا جو حال ہو گیا ہے، خدا نہ کرے تمہارا بھی ہو لیکن اس حال کا جو محمد مصطفی ﷺ کا حال تھا، اس کا عجیب عالم ہے کہ بظاہر دور کی نظر سے جتنی دور کی نظر سے اس کو دیکھو اتنا تکلیف دہ دکھائی دیتا ہے۔لیکن خدا کی قریب کی نظر نے اس کو ایک جنت کا نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دیکھا اور ایسی عظیم زندگی کے طور پر دیکھا کہ جس کا حال جس کا راز اگر بنی نوع انسان کو پتا چلے تو وہ والہانہ اس زندگی کی طرف دوڑتے چلے آئیں اور اسے اپنانے کی کوشش کریں۔پس یہ وہ اندرونی مضمون ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا کیا گیا۔لیکن اس میں اترنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہئے۔اسے سمجھے بغیر انسان ان مضامین سے پوری طرح استفادہ نہیں کر سکتا۔پس دنیا کے عاشق کو لطف تو آتا ہے لیکن ساتھ ساتھ ڈراتا بھی تو چلا جاتا ہے کہ الا یا ایها الساقی ادر کا ساؤنا ولها که عشق آسان نمود اول ولے افتاد مشکلها اے ساقی ! شراب سے لبریز پیمانہ پکڑا تاکہ میں اپنے آپ کو ڈبو دوں ، اپنی یادوں کو غرق کر دوں کہ عشق کے سوا اب مجھ سے رہا نہیں جاتا کیونکہ ” آساں نمود اول عشق آغاز میں تو بہت پر لطف دکھائی دیتا تھا اور بڑا آسان لگتا تھا ولے افتاد مشکلہا اب اس میں مبتلا ہو گئے ہیں تو بہت مصیبتوں کا پہاڑ سر پر آپڑا ہے۔لیکن حضرت محمد ﷺ کا عشق دیکھا کہ کس شان سے محبوب کی نظر میں ظاہر ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ اب کہہ دے ! تمام بنی نوع انسان کو مطلع کردے کہ