خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 95

خطبات طاہر جلد ۱۰ 95 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء سے اہم اور بنیادی چیز ہے۔اگر تشخیص درست ہو تو علاج تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا۔پس یہود کو بھی مشورہ دوں گا ، عیسائی قوموں کو بھی مشورہ دوں گا، مسلمانوں کو بھی مشورہ دوں گا اور تمام بنی نوع انسان کو بھی مشورہ دوں گا کہ آئندہ ان کو دائمی امن کی تلاش کے لئے کس قسم کی منصفانہ کارروائیاں کرنی چاہئیں۔بہر حال اب میں مختصراً آپ کے سامنے اس مسئلے کو جس کو فلسطین کا مسئلہ کہا جاتا ہے یا آج کل جسے ہم Gulf War کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اس کا جو گہرا تاریخی پس منظر ہے اس کا مختصر اذکر میں آپ کے سامنے کرتا ہوں۔بالفور Balfour نے ۱۹۱۷ء میں جو یہود سے وعدہ کیا تھا اس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ ۱۹۲۲ء میں رونما ہوا جبکہ لیگ آف نیشنز (League of Nations) نے ایک مینڈیٹ (Mandate) کے ذریعے انگریزوں کو فلسطین کے علاقے کا نگران مقرر کیا اور اس مینڈیٹ میں یہ بات داخل کی کہ بالفور نے جو یہود سے وعدہ کیا تھا اسے پورا کروانا اس نگران حکومت کا کام ہوگا۔اب دنیا کی تاریخ میں ایسا حیرت انگیز نا انصافی کا کوئی واقعہ اس سے پہلے کم ہوا ہوگا جو نا انصافی با قاعدہ قوموں کی ملی بھگت سے ہوتی ہے۔لیگ آف نیشنز تو تمام دنیا کی نمائندہ تھی یعنی کہا یہ جاتا تھا کہ سب دنیا کی نمائندہ ہے اس کا یہ کام ہی نہیں تھا کہ انگریزوں کے کسی وزیر نے جو کسی یہودی لارڈ کو خط لکھا، راتھ چائلڈ Rothchaild یا راتھ شیلڈ (Rothchild) نام ہے۔اس کا تلفظ مجھے یاد نہیں مگر وہ فرانس کا بہت بڑا بینکر Banker تھا۔اس کو خط لکھا کہ ہماری کیبنٹ تم سے یہ وعدہ کرتی ہے، یہ سوچ رہی ہے۔اس کو لیگ آف نیشنز کا حصہ بنالے اور لیگ آف نیشنز کو یہ اختیار کس نے دیا تھا کہ وہ دنیا کی قسمت بانٹتی پھرے اور جس قوم نے وہ وعدہ کیا تھا ان کے سپر د ہی اس علاقے کی نگرانی کر دی کہ اب جس طرح چا ہو اس کو نافذ العمل کرو اس پر عمل کرواؤ۔ساتھ ہی ایک لاکھ یہود کو باہر سے لا کر آباد کرنے کا مینڈیٹ Mandate بھی دیا چنانچہ اس پر عمل شروع ہوا اور ۷ ارمئی ۱۹۳۹ء کو اگلی جنگ سے پہلے انگریزوں نے ایک وائٹ پیپر White Paper شائع کیا۔اس وقت تک ایک لاکھ کی بجائے اس سے بہت زیادہ یہودی اس علاقے میں آباد ہو چکے تھے۔۱۹۳۹ء کے وائٹ پیپر White Paper کی رو سے انگریزوں نے اپنی سابقہ پالیسی