خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 975
خطبات طاہر جلد ۱۰ 975 خطبه جمعه ۱۳ / دسمبر ۱۹۹۱ء نشان ظاہر ہوتے ہیں تو ان کو دیگر داعین الی اللہ تک پہنچانا بھی بہت اہم ہے اور ہر جگہ جہاں بھی کامیابی سے تبلیغ چل رہی ہے۔وہاں ایسے واقعات ضرور ہوتے ہیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کی غیر معمولی تائید کے بغیر تبلیغ کو پھل لگیں اور جہاں بھی کسی نو مبائع سے میں نے گفتگو کی ہے تو اس گفتگو کے دوران مجھے معلوم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ محض دلائل کی کی بات نہیں تھی اور بہت سی باتیں ہیں جنہوں نے اس نو احمدی کے دل پر اثر ڈالا اور بعض اعجازی نشان انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تو وہ نشان جو قریب کے نشان ہوں وہ بعض دفعہ دُور کے زیادہ عظیم الشان نشانات کے مقابل پر بھی دل پر زیادہ اثر پیدا کرتے ہیں۔جو دور کی بات ہے وہ خواہ کتنی ہی بڑی ہو بعض دفعہ دل پر وہ اتنا اثر نہیں کرسکتی جتنا ایک قریب کی چیز دل پر اثر کرتی ہے۔اس وجہ سے آپ کے اپنے تجارب جن میں سے آپ گزرتے ہیں یا اپنے ماحول میں ہونے والا ایک واقعہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس کا دل پر بہت زیادہ گہرا اثر ہوتا ہے۔بہ نسبت ۴۰۰ سال پہلے یا دو ہزار سال پہلے کے ایک اعجازی نشان کا علم ہونے سے جو دل پر اثر پڑتا ہے۔انسانی فطرت ہے کہ جو چیز قریب ہے اس کا دل پر اثر پڑتا ہے اقبال نے اس سلسلہ میں کہا ہے۔جو تھا نہیں ہے جو ہے نہ ہوگا یہی ہے اک حرف محرمانہ قریب تر ہے نمود جس کی اسی کا مشتاق ہے زمانہ ( کلیات اقبال) تو اس شعر میں گہری حکمت ہے۔علامہ اقبال کو بعض احمدی سمجھتے ہیں کہ یہ گویا ایک ایسا نام ہے جس کا ہماری زبان پر آنا ہی گویا کہ جرم ہے۔یہ نہایت بے ہودہ خیال ہے۔علامہ اقبال نے جماعت کے خلاف بھی باتیں لکھی ہیں۔اس سے پہلے جماعت کی تائید میں بھی بہت کچھ لکھا تھا علاوہ ازیں ایک اچھے شاعر تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اتنے بڑے حکیم امت نہ ہوں جتنا بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی باتوں میں کئی جگہ بہت اچھی اچھی حکمت کی باتیں ملتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کی نصیحت ہے : الحكمة ضالة المومن بنا۔پس ہمیں حکمت سے پیار ہونا چاہئے۔میں اس لئے اس بات کا ذکر کر رہا ہوں کہ ایک ملک میں ایک مربی نے کسی دوسرے احمدی کے اوپر بڑی سختی کی کہ تم نے جماعتی مجالس میں علامہ اقبال کے ایک شعر کی تعریف کیوں کی۔وہ شعر غلط استعمال ہوا تھا اس میں کوئی شک نہیں لیکن جہاں تک علامہ اقبال کے شعر کی تعریف کا تعلق ہے تو جو تعریف کے