خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 965
خطبات طاہر جلد ۱۰ 965 خطبه جمعه ۱۳ دسمبر ۱۹۹۱ء ہو۔ حوالوں کو ترتیب دی جائے۔ اصل اقتباسات کی فوٹو سٹیٹس یعنی عکسی تصویریں مہیا کی جائیں اور ان سے متعلق مختصر تعارف کرایا جائے کہ یہ فلاں ایڈیشن میں موجود تھا بعد کے ایڈیشنز میں تحریف ہوئی ۔ تحریف شدہ ایڈیشنز کی فوٹوسٹیٹس بھی شامل کی جائیں ۔ یہ معلومات مہیا کی جائیں کہ فلاں فلاں لائبریری میں یہ مواد آج بھی موجود ہے اور مثلاً اگر برٹش میوزیم کی لائبریری میں کوئی پرانی کتاب اصل صورت میں موجود ہے تو اس سے مصدقہ نقول حاصل کرنی چاہئیں کیونکہ جب ان باتوں کا چرچا ہوا اور دشمن اپنے آپ کو مغلوب دیکھے تو ! ے تو بعض دفعہ شرارت کرتا ہے۔ بعض نا ہے۔ بعض دفعہ کتابوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ چنانچہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات ہیں کہ بعض ضروری کتب کو دشمن چرا کر لے گیا اور ضائع کر دیا اور ان کی حفاظت کی چونکہ پوری احتیاط نہیں کی گئی تھی اس لئے سلسلہ کو نقصان پہنچا۔ ربوہ میں بھی جب باہر سے سوال و جواب کے لئے وفود آیا کرتے تھے تو ان میں بعض ے علم ہوا کہ انہوں نے تنگ نظر اور متعصب لوگ بھی آج بھی آجایا کرتے تھے تو مجھے لائبریرین صاحب سے علم صاحب سے علم ہوا کہ ان وہاں یہ حرکت کرنی شروع کردی ۔ جو نایاب نسخے جماعت کی تائید میں استعمال ہوتے ہیں ان میں سے ایک نسخہ ایک مولوی صاحب نے جیب میں ڈالا اور کھسک گئے اور نسخہ پھر غائب ہو گیا۔ میں نہیں جانتا کہ اس کا متبادل پھر مہیا ہوا کہ نہیں ۔ مگر ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ اس لئے اقتباسات کے سلسلہ میں یہ احتیاط کی جائے کہ اپنے اپنے ملک میں جہاں وہ اصل کتاب موجود ہو اس کا صرف عکس نہ اٹھایا جائے بلکہ اس کے اوپر لائبریرین کی تصدیق کرائی جائے کہ ہم نے یہ عکس با قاعدہ طور پر تصدیق کرنے کے بعد جاری کیا ہے اور اس کے بعد پھر اگر کوئی شرارت کرتا بھی ہے تو اس شرارت کا اتنا بڑا نقصان نہیں ہوگا۔ تو ان معنوں میں دعوت الی اللہ کے مراکز تیار کرنے چاہئیں جو معنی میں نے بیان کئے ہیں اور پھر ان میں آڈیو ویڈیو کا تعارف بھی ہو مختلف مواقع پر جو سوال و جواب کی مجالس ہیں یا دوروں کی تصاویر ہیں یا جلسہ سالانہ کی روئیداد ہے اس کے متعلق پہلے تعارف ہونا چاہئے کہ ہمارے پاس یہ یہ چیزیں موجود ہیں اور کس کس قسم کے لوگوں کے لئے کون کون سا مواد موجود ہے اور اس کے دکھانے کا انتظام ہو تو جو بھی باہر کی جماعتوں سے یا مقامی شہر سے آتا ہے وہ کچھ عرصہ بیٹھے ، اس کا دل لگے اور اس کو معلوم ہو کہ میرا کہاں مقام ہے جہاں آکر میں نے مزید معلومات حاصل کرنی ہیں ۔ اس دفتر سے اپنائیت کا احساس پیدا ہو اور وہاں رونق