خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 961
خطبات طاہر جلد ۱۰ 961 خطبہ جمعہ ۱۳ / دسمبر ۱۹۹۱ء جماعت کی طرف سے تحفہ پیش کی جا سکتی ہیں ان کے متعلق معلومات مہیا ہونی چاہئیں۔غرضیکہ ایک ایسا کمرہ ہو جس میں اٹھنے بیٹھنے کا بھی انتظام ہو۔اگر چائے وغیرہ کی سہولت مہیا کی جاسکے تو اور بھی بہتر ہے ورنہ کم از کم تبلیغی ضروریات کے سلسلہ میں تمام چیز میں موجود ہونی چاہئیں۔اس کے علاوہ ہمارے لٹریچر میں جو حوالے مذکور ہیں جو کثرت سے استعمال ہونے والے ہیں اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔کچھ کا عیسائیت سے تعلق ہے کچھ کا ہندوازم سے، کچھ کا سکھ ازم سے ، بالعموم یہ دیکھا گیا ہے کہ جب دعوت الی اللہ کرنے والے کو کوئی سوال کرتا ہے کہ تم نے جو فلاں اقتباس بتایا ہے کہ ہماری کتابوں میں موجود ہے یہ دکھاؤ کہاں ہے تو دوطرح کی مشکلات پیش آتی ہیں۔اول یہ کہ اصل کتاب اس ملک میں ہی موجود نہیں ہوتی دوسرے حوالے ناقص ہوتے ہیں۔اور ہمارے پرانے طبع شدہ لٹریچر میں یہ بہت بڑی مشکل ہے کہ حوالوں کا انداز ایسا مضمون نگار کا سا تھا واقعاتی طور پر صحت کے ساتھ اعداد وشمار درج کرنے کا رجحان ہر شخص میں نہیں پایا جاتا۔اس زمانہ میں جو مضمون لکھنے والے مضمون نگار تھے وہ بڑے اچھے اچھے دعوت الی اللہ کی مہارت رکھنے والے لوگ تھے۔لیکن کتابوں کے حوالوں کے فن سے ناواقف تھے۔اور چونکہ سچ بولنے والے تھے اس لئے وہ اپنے بھولپن میں یہ سمجھنے لگ جاتے تھے کہ ہم نے تو حوالہ دیکھا ہے ہم جانتے ہیں کہ سچا ہے بس یہی کافی ہے اور ذکر کر دیا کہ فلاں جگہ حوالہ موجود ہے اور اکثر علمی کتا ہیں جو شائع بھی ہوئی ہیں ان میں ایسے حوالے ہیں کہ دیکھئے ، بدرسن ۱۹۰۰ فلاں یا الحکم ۱۹۰۰ فلاں اور اس حوالے سے آگے پھر وید کا حوالہ یا گیتا کا حوالہ ہے یا بائیل کا حوالہ ہے حالانکہ معمولی سی بات ہے کہ جو کتا ہیں مستقل نوعیت کی ہیں سب دنیا میں شائع شدہ ہیں ان کے حوالوں کی تلاش کے لئے کوئی بدر کے فلاں سن کے پرچے میں جائے گا اور وہاں سے جا کر ڈھونڈے گا۔تو مضمون نگاروں نے اپنے بھول پن میں یا سہل انگاری سے ایسے حوالے درج کر دئیے جن تک پہنچنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہے اور ان کی تلاش ان رستوں سے بے ضرورت ہے جو رستے وہاں دکھائے گئے ہیں۔پھر جب ان حوالوں کو دیکھا جاتا ہے جو اصل کتاب کے ہیں تو بسا اوقات یہ دقت پیش آتی ہے کہ وہاں ایڈیشن کا ذکر نہیں کہ کس ایڈیشن کے کس صفحہ کا حوالہ ہے۔گویا کہ صرف ایک ہی ایڈیشن ساری عمر میں اس کتاب کا شائع ہوا ہے اور جو شخص بھی کہیں سے وہ کتاب اٹھائے گا اس کو سیدھا اس صفحہ پر وہ حوالہ دکھائی دے گا۔تو کئی دعوت الی اللہ