خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 947 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 947

خطبات طاہر جلد ۱۰ 947 خطبہ جمعہ ۶ / دسمبر ۱۹۹۱ء ہوا کرتا ہے اور وہ رجحان خدا دا در جحان ہوتا ہے لیکن اسے مزید صیقل کیا جاتا ہے اور مزید ترقی دی جاتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی علی اللہ میں یہ خدا داد رجحان اپنے درجہ کمال کو پہنچ گیا تھا۔اسی لئے آنحضور ﷺ کو رحمۃ للعالمین فرمایا گیا۔رحمة اللعرب، رحمة اللـعـجـم يـا رحمة اللمسلمین نہیں فرمایا بلکہ رحمۃ اللعالمین۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ہر ایک میں دلچسپی تھی اور رحمت کے ساتھ دلچسپی تھی۔ہر شخص کی بھلائی کے متعلق آپ کے جذبات قطعی طور پر اٹھتے تھے اور اس میں کسی کوشش یا ارادے کو دخل نہیں ہوا کرتا تھا از خود ہر ایک سے رحمت کے سلوک کو جی چاہتا تھا اور یہ مثال ہمیں انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ ماں اور بچوں کے رشتے میں دکھائی دیتی ہے۔قرآن کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے نصیحت فرمائی کہ اگر تم میں سچا ایمان ہے تو ایمان کی اصل علامت یہ ہے کہ تمہیں خدا اور رسول سے اپنے ہر عزیز اور قریبی سے زیادہ محبت ہو اور زیادہ دلی تعلق قائم ہو جائے۔اگر یہ نہیں تو تمہیں پھر ایمان کا پتا نہیں کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے مجھے رحمۃ للعالمین کا حقیقی مفہوم سمجھ آیا۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہرگز جبراً کسی کو یہ نہیں فرما سکتا کہ تم فلاں شخص سے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ محبت کرو۔یہ بالکل بے دلیل بات ہے اور غیر فطری بات ہے لیکن اگر خدا کے علم میں ہو کہ وہ شخص کسی سے اپنے عزیزوں سے بڑھ کر محبت کرتا ہے اور جتنی اس سے قریب تر لوگ اس سے محبت کرتے ہیں ان سے بڑھ کر ان سے محبت کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک غیر معمولی شفقت کا سلوک ہوگا کہ اس شخص سے متعلقہ کو بتا دے کہ دیکھو یہ تم سے اتنی محبت کرتا ہے کہ تمہارے قریب ترین عزیز اور اقرباء اور ماں اور باپ اور دوسرے رشتہ دار ویسی محبت تم سے نہیں کرتے۔اس لئے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: ۶۱) یہ دائی قانون ہے جو یہاں بھی اطلاق پانا چاہئے اور تم میں بھی جوابا اس وجود سے ویسی ہی محبت کرنی چاہئے جیسی یہ تم سے محبت کرتا ہے۔یہ سارا مضمون اس مضمون کے اندر داخل ہے، اس ہدایت کے اندر داخل ہے کہ اگر تم خدا اور رسول سے اپنے ماں باپ اور اقرباء سے بڑھ کر محبت نہیں کرتے تو تمہیں ایمان کا علم ہی کوئی نہیں کہ ایمان ہوتا کیا ہے۔دراصل یہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے دل کی رحمت کی گواہی تھی اور رحمۃ العالمین کا لفظ اس پہلو سے ایک حیرت انگیز لقب ہے اور ایسا بے مثل لقب ہے کہ دنیا کے کسی مذہب کے بانی کسی نبی کسی ولی کسی بزرگ کے متعلق آپ کی اپنی کتابوں میں بھی یہ الله