خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 946
خطبات طاہر جلد ۱۰ 946 خطبہ جمعہ ۶ / دسمبر ۱۹۹۱ء ایسا راضی ہوا جیسے کبھی کوئی دکھ محسوس نہ کیا ہو تو اس خاموشی اور اس دیر میں یہ بھی ایک حکمت تھی۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی براہ راست معافی کا تعلق ہے یہ واقعات شاذ و نادر کے طور پر تاریخی نمونے کے طور پر مثالوں کے طور پر ہوا کرتے ہیں روز مرہ کی زندگی میں ایسے نہیں ہوتے بلکہ انبیاء کی صلى الله زندگی میں بھی میں نے سوائے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے دور کے کسی اور نبی کے دور میں ایسا واقعہ نہیں پڑھا کہ خدا تعالیٰ نے کسی کو یا خدا تعالیٰ کے رسول نے کسی کو سزا دی ہو اور اللہ تعالیٰ نے براہ راست پھر اس کو معاف فرمایا ہو۔یہ واقعات بریت اور معافی کے دوہی ہیں جو صرف حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے دور میں ظاہر ہوئے۔بریت کے معاملے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی بریت وحی کے ذریعے ہوئی اور وہاں بھی انتظار کی حکمت یہی تھی جو میں بیان کر رہا ہوں اور معافی کے سلسلے میں بھی حضرت کعب اور ان کے ساتھیوں کی معافی وحی کے ذریعے ہوئی اور کسی نبی کے زمانے میں یہ واقعہ نہیں گزرا لیکن اس میں جو سبق ملتا ہے وہ سبق دہرایا جاسکتا ہے۔پہلے بھی تاریخ اس سبق کو دہراتی رہی آئندہ بھی دہراتی رہے گی کہ اگر کوئی شخص اللہ ناراض ہو اور شرح صدر کا انتظار کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس عرصے میں دعا کرتا رہے تو بعید نہیں کہ جب اس کا دل معافی پر راضی ہو تو وہ خدا کی طرف سے ہی معافی ہو اور ضروری نہیں کہ وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس معافی کا اعلان کرے مگر بسا اوقات شرح صدر کے ذریعے اور دل کو نرم اور ملائم کر کے اپنی طرف سے معافی کا اعلان فرما دیتا ہے۔بس ہم دعا کرتے ہیں کہ آئندہ بھی جماعت کو اللہ تعالیٰ ان ٹھوکروں سے محفوظ رکھے اور اگر خدانخواستہ کوئی شخص ٹھو کر کھائے وہ بھی ایسے ہی نیک نمونے دکھائے اور جب اسے معافی ملے تو خدا کی طرف سے معافی ملے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دل صاف اور پاک کئے جائیں۔اس لمبے اعلان کے بعد جو جرمنی کے واقعہ سے تعلق رکھتا ہے اب میں واپس اس مضمون کی طرف لوٹتا ہوں یعنی دعوت الی اللہ کا مضمون جس کے متعلق خطبات کا ایک سلسلہ شروع ہے۔میں ذکر کر رہا تھا کہ ایک داعی الی اللہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی کی ذات میں دلچسپی لے اور ذات میں دلچسپی لینا ایک تو انفرادی طور پر ہر شخص کے متعلق کوئی بھلائی کی بات سوچنا جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کوئی ایسی تعریف کر دینا جو واقعہ اس شخص میں پائی جاتی ہو ایک یہ بھی ذریعہ ہے ذاتی تعلقات قائم کرنے کا اور کسی کی ذات میں دلچسپی لینے کا مگر ایک ذات میں دلچسپی لینے کا رجحان