خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 938
خطبات طاہر جلد ۱۰ 938 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء ہندوستان کے زمانہ میں مجھے یاد ہے لاہور میں جب ہم طالب علم ہوا کرتے تھے تو ہمارے بعض دوست تبلیغ کا بہت ہی شوق رکھنے والے تھے۔ساری عمر انہوں نے تبلیغ کی اور ساری عمر ایک بھی پھل نہیں لگا۔وجہ یہ ہے کہ جو ضدی آدمی چنے ہوئے تھے ان سے ہی ٹکراتے رہے۔آج وہ یہ دلیل لے کر آیا کل یہ دوسری دلیل لے کر آئے۔ہر روز ہنگامے، ہر روز گفت و شنید ، گرم گرم بحثیں یہاں تک کہ بعض دفعہ لڑائیوں تک بھی نوبت پہنچ جاتی تھی مگر وہ ان دوستوں کے ساتھ آپس میں اس طرح جڑ چکے تھے کہ علیحدہ نہیں ہو سکتے تھے اور اپنی ساری عمر ضائع کر دی۔اگر ان کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے تو آسانی کے ساتھ خدا کے فضل سے ایسے سعید فطرت مل سکتے تھے لیکن کیوں ایسا نہیں کیا ؟ یہ سوال ہے جس کو آپ کے لئے سمجھنا ضروری ہے۔انانیت کی بہت سی قسمیں ہیں بعض قسمیں دبی ہوئی شکل میں بھیس بدلی ہوئی شکل میں موجود ہیں بعض دفعہ جس سے ایک دفعہ دینی گفتگو میں مقابلہ شروع ہو جائے اگر آپ اس کے کسی سوال کا جواب نہ دیں اور یہ کہہ دیں کہ جی ! میں تمہیں دیکھ چکا ہوں ، بس کافی ہوگئی، میں ہار گیا سمجھ لوتو اگر آپ میں یہ کہنے کی صلاحیت نہیں ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ کسی موقع پر میں نے اپنی ذات کی ہار قبول ہی نہیں کرنی تو آپ ایسے شخص سے پھر کبھی پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ایک تلخ گھونٹ پینے کے لئے آپ کو تیار ہونا پڑے گا ایک موقع پر آپ کو یہ کہنا پڑے گا میاں تم جیت گئے ، میں ہار گیا۔میرے پاس جواب نہیں ہے یعنی تمہاری ان کج بحثیوں کا جواب نہیں ہے۔تم مجھے ہارا ہوا سمجھ لولیکن خدا کے لئے میرا پیچھا چھوڑو۔اگر کوئی شخص یہ کہہ دے تو بعض دفعہ اس کی مخفی انانیت کہتی ہے کہ لو جی تم شکست کھا گئے۔اپنے آپ کو تم نے نیچا دکھا دیا اور یہ روک اس سے پیچھا چھڑانے میں حائل ہو جاتی ہے۔چنانچہ جن صاحبان کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ایک سے زائد ہیں جو میرے ذہن میں ہیں۔بعض فوت ہوگئے بعض زندہ بھی ہیں ان کی یہ عادت ان کی تبلیغ کے مؤثر ہونے کی راہ میں ہمیشہ روک رہی اور وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے لئے جواب دینا ضروری ہے اور اچھے جواب لے کر آتے تھے مگر جس نے قبول ہی نہیں کرنا اس کو اچھے یا برے جواب سے کوئی بحث ہی نہیں ہے اس نے بہر حال قبول نہیں کرنا۔تو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ کوئی شخص چند خاص قسم کے لوگوں کے ساتھ مسلسل سر تو نہیں ٹکرا رہا۔میں جب جرمنی گیا تو وہاں یہو اوٹنس والے بڑے سر گرم عمل دیکھے۔افریقہ میں بھی آج کل