خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 929 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 929

خطبات طاہر جلد ۱۰ 929 خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء بعد بات آخر اخلاقیات پر ضرور پہنچتی ہے اور ان کے راہنماؤں نے جو غلطیاں کی ہیں۔ اشتراکیت میں جو کمزوریاں ہیں جس کے نتیجہ میں چین آج اس حال کو پہنچا ہے ان سارے مسائل پر نظر ڈال کر جب بات کی جاتی ہے تو اس شخص کا ایک ذاتی گہرا تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری قوم میں اس کو دلچسپی ہے میری قوم کے حالات سے واقف ہے اور جو بات کہہ رہا ہے درست ہے اور آخری تجزیہ ایسا ہے جو میرے دل کی بھی آواز ہے۔ جب اس طرح تعلق قائم ہو تو پھر اس مضمون کا رخ بدلنا کوئی مشکل نہیں رہتا۔ پھر اخلاقیات کے موضوع پر کنفیوشس ازم کی مثلاً بات چل جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کنفیوشس ازم کی اخلاقی تعلیم بنیادی طور پر چونکہ ایک ہی خدا کی دی ہوئی تعلیم ہے اس لئے اسلام کے ساتھ اس کا یہ تعلق ہے اور اسلام میں بھی یہ تعلیم ملتی ہے اور اس تعلیم کے سواد نیا کا کوئی نظام چاہے وہ اشتراکی نظام ہی ہو جاری نہیں ہو سکتا تو بات سے بات نکلتے ہوئے کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے۔ ان موضوعات پر مختلف مواقع پر بعض دفعہ سوال و جواب کی مجالس میں ، بعض دفعہ دوروں کے دوران مختلف خطابات میں بہت سا مواد موجود ہے ۔ اس لئے کوئی سیکرٹری تبلیغ یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ کو تو شاید ان باتوں کا علم ہو مجھے علم نہیں ہے۔ میں نے اپنا علم آپ کے ساتھ Share کیا ہوا ہے یعنی میرا علم اور آپ کا علم دو جدا گانہ چیزیں نہیں رہیں ۔ جو احمدی کو علم ہوتا ہے وہ مجھے لکھ کر بھیجتا ہے اور میری توجہ اس کی طرف مبذول کراتا ہے۔ روزانہ کثرت سے ایسے خط ملتے ہیں جن میں بعض امور کا ذکر ملتا ہے کہ فلاں ملک میں فلاں جگہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا رجحانات ہیں اور بعض دفعہ اخبارات کے تراشے ملتے ہیں۔ بعض دفعہ بعض احمدی احباب کتا نہیں بھجواتے ہیں ۔ کوئی بہت اچھی کتاب انہوں نے پڑھی ہو تو کہتے ہیں یہ ایسی کتاب ہے جس کی معلومات کا دین کے ساتھ ایک تعلق ہے یعنی آپ کے کاموں سے ایسا تعلق ہے کہ آپ ان معلومات کے نتیجہ میں مزید فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور جماعت کی راہنمائی کے سلسلہ میں یہ آپ کے کام آنے والی باتیں ہیں۔ غرضیکہ ایسی ہی کئی تمہیدوں کے ساتھ کتا ہیں ملتی ہیں تو آپ جو مجھے علم دیتے ہیں میں اپنے اندر سنبھال کر کنجوس کی طرح تالے لگا کر تو نہیں رکھتا ۔ آپ سے ملنے کے دوران ، دوروں کے وقت ،خطبات میں ،سوال و جواب کی مجالس میں جو فیض میں جماعت سے پاتا ہوں وہ جماعت کو واپس کر رہا ہوتا ہوں اور یہ مضمون اکٹھا ہو کر ایک دریا کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔