خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 928
خطبات طاہر جلد ۱۰ 928 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء وغیرہ اور اگر دیسی نہیں لی تو کیا آپ نے جائزہ لیا ہے کہ اس کو کن باتوں میں دلچسپی ہے، کس طرح اس کے دل میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے لئے کرید پیدا کرنے کے امکانات ہیں؟ تو تفصیلی بحث انفرادی بحث تک جاپہنچے گی اور ہر شخص جو زیر تبلیغ ہے اس کے متعلق اس سے گفتگو کرنی پڑیگی اس سلسلہ میں اس کو نیک مشورے دینے پڑیں گے اور سیکرٹری تبلیغ جو اس طرح کام کرتا ہے۔اس کو رفتہ رفتہ اتنا وسیع تجربہ ہونے لگ جاتا ہے کہ واقعی اس کے اندر یہ اہلیت پیدا ہوتی ہے کہ ہر صورت حال میں ایک مفید اور اچھا مشورہ دے سکے اور کچھ اس کی معلومات پہلے ہی وسیع ہوتی ہیں اس رنگ میں اس کے جو ساتھی ہیں ان کی بھی تربیت ہو رہی ہوتی ہے لیکن اس مثال کو ابھی کچھ اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔مثلاً ایک چھینی ہے اگر آپ اس چینی کو جو انگلستان میں بس رہا ہے یا کہیں ٹھہرا ہوا ہے جا کر یہ کہیں کہ آؤ اسلام کے متعلق معلومات حاصل کرو۔میرا نہیں خیال کہ وہ اس میں کوئی دلچسپی لے گالیکن اگر آپ کوئی ایسا سوو نیٹر مثلاً پیش کریں جس میں چینی لوگوں سے رابطہ پیدا ہونے کا ذکر ہو۔ایسا کوئی سود نیئر نہیں ہے میں مثال کے طور پر کہہ رہا ہوں بعض دوسری قوموں کے ہیں تو جس قوم سے رابطہ ہے اس کے متعلق اگر کوئی ایسی دلچسپ چیز آپ اس کو دکھانے لگیں جس سے اس کو معلوم ہو کہ ہمارے ملک میں اس جماعت کا بڑا وقار ہے اور اس جماعت نے خدمات کی ہوئی ہیں اور ہمارے ملک کے معززین ان لوگوں کی عزت کرتے ہیں تو اچانک اس کے دور کے تعلق میں قربت کا ایک رجحان پیدا ہوگا۔وہ آپ کے لئے اس طرح اجنبی نہیں رہے گا بلکہ شناسائی کے امکانات پیدا ہو جائیں گے اور قریب آئے گا پھر آپ اس کو اور باتیں سمجھا سکتے ہیں۔ہماری جماعت کی روح کیا ہے ہم کس طرح کام کرتے ہیں۔پھر آپ افریقن قوم کے متعلق اور افریقہ کی اس قوم کے متعلق جس کا وہ باشندہ ہے ( میرا مطلب ہے اگر وہ افریقہ کا ہو تو ) مزید دلچسپی لے سکتے ہیں اور اس کے لئے آپ کو معلومات ہونی چاہئیں اور یہ معلومات پھر سیکرٹری تبلیغ کو آگے اس شخص تک پہنچانی چاہئیں ، طریق کار سمجھانا چاہئے۔اب میں واپس چین ہی کی مثال پر آتا ہوں۔میرے پاس بہت سے چینی دوست ملنے کے لئے آتے ہیں۔بالعموم براہِ راست فوری طور پر اسلام کا پیغام دینے کی بجائے میں پہلے اُن سے چین کے حالات اور چین کے مسائل کے متعلق بات کرتا ہوں اور جب وہ مسائل بتاتے ہیں تو کچھ دیر کے