خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 89

خطبات طاہر جلد ۱۰ 89 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء سیکرٹری صاحب جرمنی گئے تو وہاں سے انہوں نے 7،6 سوملین کی جو Aid انکودی اس کا اعلان کرتے وقت انہوں نے پہلا فقرہ ہی یہ کہا کہ دیکھو بھئی! میں کوئی کشکول لے کر تو نہیں یہاں آیا تھا۔میرے ہاتھ میں تو کوئی کشکول نہیں تھا۔میرے دماغ میں تو Figure بھی کوئی نہیں تھی۔کوئی اعداد نہیں تھے کہ اتنی رقم میں وصول کروں گا۔یہ جرمن بھائی ہمارے بڑے مہربان ہیں۔بہت اچھے لوگ ہیں۔اچھی قوم ہے۔انہوں نے دیکھا کہ ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اپنے ان بھائیوں کی مشکل میں مدد دیں اور War Efforts میں ہم کچھ حصہ ڈالیں تو ہم شکریے سے قبول کرتے ہیں۔ایڈور ڈھیتھ نے کل رات کو اسی بحث میں حصہ لیتے وقت کہا کہ تمہارے جھوٹ کی اور مکاریوں کی حد ہوگئی ہے۔تم نے قوم کو ساری دنیا میں بے عزت کر دیا ہے۔کشکول ہاتھ میں پکڑ کے تم بھاگے پھرتے ہو اس مصیبت میں پڑنے کی ضرورت کیا تھی جس کو سنبھال نہیں سکتے جس کے لئے انگلستان کی عزت کو اور عظمت کو داغدار کر دیا ہے اور اب تم بھکاری بن گئے ہو۔امریکن اس کے مقابل پر کورس(Coarse) یعنی اکھر قسم کے Politicians ہیں۔کوئیل صاحب یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں جو امریکہ کے وائس پریذیڈنٹ ہیں اور ان کی جو ذہنی اور سیاسی قابلیتیں ہیں ان کے اوپر امریکہ کا اخبار نویس ہمیشہ ہنستا رہتا ہے اور مذاق اڑاتا رہتا ہے اس حصے کا تو میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ان کے آپس کے معاملات ہیں لیکن ان کو بات کرنے کا سلیقہ نہیں اور یہ نہیں پتا لگتا کہ میں کس طرح بعض چیزوں پر پردے ڈالوں چنانچہ اپنے امریکہ کے مانگنے کو انہوں نے ایک اور نام دیا ہے۔جیسے ہمارے پنجاب میں مشہور ہے کہ بعض ” ڈنڈ افقیر ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ یہ کہیں کہ بھٹی خدا کے واسطے کچھ بھیک ڈال دو۔بھو کے مررہے ہیں کچھ مدد کرو، رحم کرو، وہ ڈنڈا لے کر جاتے ہیں کہ دیتے ہو تو دو ورنہ ہم لاٹھی سے سر پھاڑ دیں گے۔تو انہوں نے اپنا جو طریق کار پیش کیا ہے وہ ڈنڈا فقیر والا ہے۔جب ان سے ایک اخباری نمائندے نے یا ٹیلی ویژن کے نمائندے نے سوال کیا کہ بتائیے آپ دنیا سے کیا توقع رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا تو قع ! ہم نے تو اب فیصلے کر لئے ہیں کہ فلاں سے اتنا وصول کرنا ہے فلاں سے اتنا وصول کرنا ہے فلاں سے اتنا وصول کرنا ہے اور ہم نے مانگنا تو نہیں۔ہم ان کو بتا ئیں گے کہ یہ تم نے دینا ہے تو اس نے کہا کہ جناب ! اگر وہ نہ دیں تو پھر کیا کریں گے۔انہوں نے کہا نہ دیں گے تو پھر اتنا میں بتا دیتا ہوں کہ پھر امریکی تعلقات پر انحصار نہ