خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 923 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 923

خطبات طاہر جلد ۱۰ 923 خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء نکلے؟ یہ سارا ایک سلسلہ ہے جو دعوت کا پہلا پیغام پہنچانے کے نتیجہ میں چل پڑتا ہے اور تبلیغ کے نتیجہ میں احمدی ہونے والے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔یہ سلسلہ اس رنگ میں کڑی کے بعد دوسری کڑی جاری ہوا کہ نہیں ؟ یہ سوال ہے جو دل میں اٹھنا چاہئے اور اگر کسی شخص کو کسی کام سے دلی لگن ہو تو یہ سوال ضرور اٹھے گا۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کی طرح دریا کے کنارے کنارے چلے گا ، بار بار نظریں ڈالے گا اور دیکھے گا کہ اس پروگرام کو جو میں نے جاری کیا تھا یہ کس انجام کو پہنچا ہے اور اگر اس کی حالت اور ترقی کرے تو حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کے دل کے مشابہ کسی حد تک سو فیصد تو ممکن نہیں کوئی اور اس کیفیت کو پا سکے لیکن کسی حد تک اس کیفیت کو اپنے دل میں محسوس کرے گا اور اس پروگرام سے اس کو دلی محبت پیدا ہو جائے گی ایسی محبت ہوگی جیسے ایک مصنف کو اپنی تصنیف سے یا ایک مصور کو اپنی تصویر سے ہوتی ہے۔ہر خالق کو اپنی مخلوق سے محبت ہوتی ہے۔پس ان منصوبوں کو جو اپنا بنالیں، اپنے دل کو لگالیں، اپنا ذاتی کام سمجھنے لگ جائیں اور اس منصوبے سے ان کو پیار ہو جائے ان کے کاموں میں اور قسم کے رنگ پیدا ہوتے ہیں اور اور طرح کی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں۔پس دعوت الی اللہ سے متعلق تمام عہدیداران کو خواہ وہ منتظم ہوں ، ناظم ہوں، سیکرٹری ہوں یا امراء ہوں ، میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے دل کا پہلے جائزہ لیں کہ کیا آپ نے اس کام کو اپنی جان کے ساتھ اس طرح لگا لیا ہے جیسے غم لگ جایا کرتے ہیں جیسے لگن لگ جاتی ہے جیسے عاشق کو عشق کھانے لگ جاتا ہے۔کیا ایسی کیفیت آپ کی اس پروگرام سے متعلق پیدا ہوئی ہے یا نہیں؟ یا کچھ نہ کچھ اس قسم کی کیفیت آپ محسوس کرتے ہیں یا نہیں اگر نہیں تو پھر ابھی یہ کام آپ کے بس میں نہیں۔آپ کو اپنا کچھ اور تعلق دین کے کاموں سے اور دین کے کاموں کے اپنی تکمیل تک پہنچنے کے معاملہ سے بڑھانا پڑے گا۔یہ تعلق بڑھے گا تو کام آگے چلے گا۔اگر یہ تعلق نہیں بڑھے گا تو سب چیزیں وہیں کی وہیں کھڑی رہ جائیں گی۔جہاں پہلی حالت میں تھیں اور یہی عموماً ہوتا ہے۔پس لگن کے نتیجہ میں جستجو اور تبع پیدا ہونا چاہئے اور اگر یہ نہیں ہے تو اسی حد تک آپ کے دل کی لگن میں اور اس کے تعلق میں کمی ہے۔آگے پھر اس کام کو کرنا کس طرح ہے؟ کام تو اتنا زیادہ ہے کہ اس سلسلہ میں فوری طور پر کسی کے لئے ممکن نہیں ہے کہ ہر دعوت الی اللہ کرنے والے تک پہنچ کر اس کی کیفیات کا جائزہ لے، اس کے پروگراموں کا جائزہ لے ، وہ پروگرام کس طرح چلا رہا ہے۔ان باتوں کا جائزہ لے۔یہ کام لمبا ہے