خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 922 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 922

خطبات طاہر جلد ۱۰ 922 خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ وہ جستجو ہے جس کے نتیجہ میں انسانی منصوبوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اگر کوئی آدمی بات کہے اور نصیحت کرے اور اس بات اور نصیحت سے اس کا ذاتی گہرا اقلبی تعلق نہ ہو، یا اس شخص سے گہرا قلبی تعلق نہ ہو جس کو وہ بات کہتا ہے اور نصیحت کرتا ہے تو اسی حد تک تتبع میں کمی ہو جائے گی۔بعض لوگ اس رنگ میں نصیحت کرتے ہیں کہ گلے سے بات اتاری اور کہتے ہیں ٹھیک ہے ہم نے جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔اب آگے تم جانو اور تمہارا کام جانے۔اور کچھ لوگ ہیں جو نصیحت کرنے کے بعد اس کے اثر کو دیکھتے ہیں۔اثر نہیں پڑتا تو ان کا دل غم سے ہلکان ہونے لگتا ہے۔اپنی زندگی کو اس نصیحت کی خاطر اس طرح غم میں گھلا گھلا کر زندگی کا نقصان کر رہے ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا یا سننے والا ان کے ظاہر سے اندازہ بھی نہیں لگا سکتا کہ ان کی کیا کیفیت ہے لیکن عالم الغیب خدا جانتا ہے یا وہ خود جانتے ہیں کہ ان کی کیا حالت ہے۔حضرت اقدس محمد مصلف مﷺ کا یہی نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:۲) اے میرے بندے! تو اپنے آپ کو غم میں ہلاک کر لے گا کہ تیری باتیں ان پر اثر نہیں کر ر ہیں اور وہ ایمان نہیں لا رہے۔تو یہ دعوت الی اللہ کی روح ہے جس کا معراج حضرت اقدس محمد مصطف اعلہ کی صورت میں دنیا میں ظاہر ہوا اور اس کی کیفیت کو قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے ہمارے سامنے رکھ کر زندہ جاوید کر دیا۔یہی وہ طریق ہے جو ہر دعوت الی اللہ کرنے والے کو بھی اختیار کرنا ہوگا اور ہر اس شخص کو بھی جس نے دعوت الی اللہ کے پروگرام مرتب کرنے ہوں۔نصیحت آپ تک پہنچتی ہے، آپ اس نصیحت کو آگے پہنچا بھی دیتے ہیں جو اکثر صورتوں میں نہیں پہنچاتے۔اس سلسلہ میں میں پہلے بات کر چکا ہوں۔پہنچا بھی دیتے ہیں تو آپ کا فرض پورا نہیں ہو جاتا۔جب ایک منتظم کو یہ اطلاع ملتی ہے یا امیر کو منتظمین کی طرف سے یہ اطلاع ملتی ہے کہ ہماری تحریک پر فلاں فلاں جماعت میں اتنے اتنے دعوت الی اللہ کرنے والے یا دعوت الی اللہ کی تمنار کھنے والے پیدا ہو چکے ہیں تو اس اطلاع کے بعد ایک حصہ دل کا مطمئن ہو جانا چاہئے کہ نصیحت کسی حد تک کارگر ہوئی اور بات آگے چل پڑی لیکن پھر وہ دعوت الی اللہ کرنے والے کیسے پیدا ہوئے؟ انہوں نے ان نیک ارادوں کو عمل میں ڈھالا کہ نہیں اور مستقل مزاجی کے ساتھ ان کی پیروی کی یا نہیں، دعوت الی اللہ کی تو کس رنگ میں کی ، اس کے نتائج کیسے