خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 88

خطبات طاہر جلد ۱۰ 88 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء مغربی دنیا نے Linkage کو اس طرح عمد أغلط سمجھا کہ گویا صدر صدام یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ اسرائیل نے ہمارے ایک مسلمان بھائی ملک کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اس لئے اس غصے میں میں نے بھی اپنے ایک مسلمان بھائی کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور دونوں ایک ہی جیسے معاملات ہیں۔حالانکہ اس میں کوئی منطق نہیں ہے اور انہوں نے اسی وجہ سے اس Linkage کے مؤقف کا مذاق اڑایا اور اس کو بالکل بودا اور بے معنی قرار دیا اور کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔سب دنیا جانتی ہے کہ تیل کے جھگڑے کے نتیجے میں ، یعنی تیل کا جھگڑا ان معنوں میں کہ کویت کی تیل کی فروخت کی جو پالیسی ہے اس سے عراق کو اختلاف تھا اور کچھ اور ایسے مسائل تھے تو تیل کے جھگڑوں کے نتیجے میں یا کچھ اور جھگڑوں کے نتیجے میں عراق نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں کو یت پر قابض ہو جاؤں گا اور وہ جھگڑے دراصل بہانے تھے۔مقصد یہ تھا کہ کویت کی تیل کی دولت پر قبضہ کرے تو کہتے ہیں اس میں Linkage کہاں سے ہو گیا۔ان دونوں باتوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے حالانکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں بڑا گہرا تعلق ہے۔وہ کہتے تھے کہ اگر تم جارحیت کے خلاف ہو تو تم اس جارحیت کو کا لعدم کرو جو پہلے اس علاقے پر ہو چکی ہے، میں بھی کا لعدم کر دیتا ہوں۔بات ختم ہو جائے گی لیکن اس کی طرف آتے نہیں تھے۔تو کیوں نہیں آرہے تھے یہ آخر کیا وجہ ہے؟ اسرائیل سے کیوں اتنا گہرا تعلق ہے؟ کیا رشتے داریاں ہیں؟ کیا اس کے مفادات کی غلامی کی ضرورت ہے؟ اور اس کے بدلے اتنی بڑی بڑی قیمتیں ادا کر رہے ہیں کہ انسان کے تصور میں بھی ان قیمتوں کی کمیت پوری طرح داخل نہیں ہوتی۔مثلاً ایک بلین کی کمیت کیا ہے۔ہم جیسے عام غرباء تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ایک بلین کتنی بڑی رقم ہوتی ہے۔ایک بلین روپے بھی ہمارے لئے بہت ہیں لیکن ایک بلین ڈالر تو بہت بڑی رقم ہے۔اس جنگ میں جو اعدادو شمار ظاہر ہوئے ہیں ،صرف امریکہ کا ایک بلین روزانہ خرچ ہورہا ہے ایک بلین ڈالر کا مطلب ہے ایک ارب ڈالر اور جتنے دن یہ جنگ چلے گی یہ اسی طرح خرچ ہوتا چلا جائے گا اور اس کے علاوہ انگریزوں کا خرچ ہورہا ہے۔اس کے علاوہ فرانسیسوں کا خرچ ہورہا ہے۔اس سے پہلے ان کے خرچ ہو چکے ہیں اور حالت ابھی سے یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دنیا کے سامنے کشکول لے کر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔انگریز ڈپلومیسی میں امریکہ سے بہت بہتر ہے اور انگریز کی ڈپلومیسی میں صدیوں کی ٹرینگ کی وجہ سے ایک نفاست پائی جاتی ہے۔اس لئے جب ہمارے فارن