خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 907
خطبات طاہر جلد ۱۰ 907 خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء حضرت محمد مصطفے ﷺ کو مذکر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان کی مستقل صفت بن چکی تھی یعنی آج یا کل یا کبھی کبھی اتفاقی نصیحت کرنے والے نہیں تھے بلکہ ہمیشہ کی زندگی میں ہر مشغلے میں نصیحت ان کے وجود کا حصہ بن گئی تھی اور آپ کی ذات میں وہ نصیحت ایسی شامل ہو چکی تھی کہ خدا نے خود آپ کا مذکر ہمیشہ کا دائمی نصیحت کرنے والا نام رکھ دیا۔پس اس لئے بھی نصیحت کی ضرورت پڑتی ہے۔ضروری نہیں کہ انا نیت کا ہی کوئی شعبہ سر اٹھارہا ہو۔انسانی غفلت ہے، کمزوریاں ہیں جو نصیحت کو سن کر ان کو بھلا دینے کی طرف انسان کو مائل کر دیتی ہیں۔پس اس پہلو سے جب میں عہدیداران کو نصیحت کرتا ہوں یا ان کے متعلق بعض دفعہ یہ تبصرے کرتا ہوں تو ان کی دل آزاری ہرگز مقصود نہیں۔میں امید رکھتا ہوں وہ تمل سے سنیں گے اور یہ واقعاتی تبصرے ہیں۔ان سے مفر نہیں یعنی ان کو بیان کئے بغیر بات پوری کھلے گی نہیں۔واقعہ یہی ہے کہ میں کہتا چلا جاتا ہوں اور پیچھے سے باتیں بھلائی چلی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ بڑی دیر سے جاری ہے۔چنانچہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ساری جماعت کو وہ باتیں سمجھاؤں کیونکہ ساری جماعت کو اگر علم ہو کہ ہمارے متعلق یہ توقعات ہیں۔یہ ہمیں لائحہ عمل دیا جا رہا ہے تو اگر عہد یداران کبھی غافل بھی ہوں تو جماعت ان کو بیدار کرے گی اور جماعت کے علم میں براہ راست آئے گا کہ ہم سے کیا توقعات ہیں اور ہمیں ان توقعات کو پورا کرنے کے لئے کیا مدددی جارہی ہے یا کیا مدددی جانی چاہئے۔اس ضمن میں پہلی بات تو میں یہ سمجھانی چاہتا ہوں کہ معلومات کی کمی خود بہت بڑے نقصان کا موجب بنتی ہے۔اب جو خطبے میں دوں گا مجھے امید ہے کہ اس کے نتیجہ میں فائدہ پہنچے گا کیونکہ معلومات عام ہوں گی لیکن جو نصیحتیں میں کرتا رہا ہوں ان کو جماعت تک پہنچایا نہیں گیا اور جماعت کی بھاری اکثریت ان سے غافل ہے۔ان کو علم ہی نہیں کہ کیا تو قعات تھیں ، کس طرح ان توقعات کو پورا کرنے کے لئے میرے ذہن نے نقشے بنائے اور کس طرح میں نے احباب جماعت کو عہد یداران کو سمجھانے کی کوشش کی؟ معلومات کی کمی کا یہ حال ہے کہ اکثر احباب جماعت کو جو ترقی یافتہ ممالک میں رہتے ہیں اور مستعد ہیں اور جہاں ذرائع ابلاغ بہت ہی اعلیٰ درجے کے اور ہر شخص کو مہیا ہیں ، وہاں بھی عام باتوں کا بھی احباب جماعت کو علم نہیں ہے۔مثلاً ان کا اگر کوئی دوست بنتا ہے جو بلغارین زبان بولنے والا ہے تو وہ گھبرا کر مجھے خط لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا بلغارین زبان میں بھی کوئی لٹریچر