خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 906
خطبات طاہر جلد ۱۰ 906 خطبه جمعه ۲۲ / نومبر ۱۹۹۱ء کہ خدا کے فضل سے اگر جماعت کے تمام عہدیداران نہیں تو بھاری اکثریت متقی ہے اور ان کی انا کچلی جاتی ہے تو وہ خدمت کے لئے آگے آتے ہیں لیکن اس کے باوجودانا کے بہت سے مخفی پہلو ہیں جو کسی نہ کسی رنگ میں انسان کے کاموں میں بھی اور اس کی سوچوں میں بھی حائل ہوتے رہتے ہیں اور جہاں تک میں نے غور کیا ہے سوائے انبیاء کے کسی کی انا ہمیشہ کے لئے کلیہ کچلی نہیں جاتی اس لئے میں جب یہ کہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان کو نعوذ باللہ ادنی سمجھتا ہوں یا تقویٰ کے خلاف باتوں میں ملوث دیکھتا ہوں بلکہ یہ ساری جماعت کے لئے ایک عام نصیحت ہے کہ اپنی انا سے ہمیشہ خبردار رہیں۔وہ دب جاتی ہے لیکن مٹتی نہیں اور موقع کی تلاش میں رہتی ہے۔اس کا حال جراثیم کی طرح ہے صحت مند انسان کے جسم میں بھی وہ جراثیم اس کے خون میں دوڑ رہے ہوتے ہیں لیکن انہیں موقعہ نہیں ملتا کہ وہ نشو و نما پاسکیں کیونکہ صحت مند جسم ان کو دبا کر رکھتا ہے اور اجازت نہیں دیتا کہ وہ سراٹھائیں لیکن حقیقت میں کامل طور پر اگر کسی کی انا مری ہے تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ہی انا ہے کیونکہ آپ نے انا کا نام ہی شیطان رکھا ہے اور شیطان کے متعلق فرمایا کہ ہر انسان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔اس کی نسوں میں دوڑ رہا ہے۔اس کے وجود کے اندر شامل ہے۔اس پر کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ آپ کے اندر بھی شیطان ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ہے لیکن مسلمان ہو چکا ہے (ال) تو انسانی فطرت کے اندر یہ جو سر اٹھانے کا اور کسی نہ کسی رنگ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کا فطری جذبہ ہے اس کا نام حضرت اقدس محمد مصطف مﷺ نے شیطان رکھا ہے اور آپ کا یہ فیصلہ قرآن پرمبنی ہے کیونکہ قرآن نے سب سے پہلے شیطان کا جو تعارف کرایا ہے وانانیت کے سراٹھانے والے ایک وجود کے طور پر پیش فرمایا ہے اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ (الاعراف :۱۳) کی آواز والے شیطان بھی ہوں گے اور ہوتے ہیں۔انسانی شکلوں میں بھی اور اس کے علاوہ بھی ممکن ہیں لیکن ایک شیطان جو محقق ہو چکا ہے جس کے متعلق ہمیں آخری دربار سے آخری فیصلہ مل گیا ہے وہ انسانی فطرت کے اندر اس کی انانیت ہے۔پس وہ عہدیداران جوانانیت کو کچلنے میں زیادہ اعلیٰ مقامات پر فائز ہوتے ہیں وہ ہمیشہ نصیحتوں سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن صرف یہی ایک روک نہیں ہے جو حائل ہے۔انسانی فطرت کے اندر بات سن کر اثر کو قبول کرنے کا مادہ بھی ہے اور بات سننے کے کچھ عرصہ بعد اس کو بھلا دینے کا مادہ بھی ہے اسی لئے قرآن کریم نے بار بار اور بار بار اور بار بار نصیحت کا حکم دیا ہے