خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 87

خطبات طاہر جلد ۱۰ 87 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء اورانڈسٹریل Growth کے لحاظ سے دنیا کا کمزور ترین علاقہ ہے۔پس یہ کیا مسئلہ ہے کیا معمہ ہے کہ جہاں دولتوں کے پہاڑ ہوں وہاں پہریدار کوئی نہ ہوں۔یہاں کسی بینک میں سونے کی کچھ ڈلیاں بھی ہوں تو حفاظت کے بڑے پکے انتظام ہوا کرتے ہیں لیکن وہاں تو واقعہ سونوں کے پہاڑ پیدا ہور ہے ہیں اور اس کے باوجود فوجی نقطہ نگاہ سے ایک خلاء کا علاقہ سمجھا جاتا ہے جو طاقت آپ دیکھ رہے ہیں اس کی اس دولت سے در حقیقت کوئی نسبت نہیں ہے جو وہاں موجود ہے تو کیوں ایسا ہورہا ہے کیوں اس علاقے کو کمزور رکھا گیا ہے جبکہ اسرائیل جو اس علاقے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس میں تیل کی دولت نہیں ہے۔اس کو غیر معمولی طور پر طاقت ور بنایا گیا ہے۔پس جہاں مال پڑا ہے وہ حصہ کمزور ہے۔جہاں ڈاکے کا خطرہ ہے اس حصے کو طاقت دے دی گئی ہے۔ایک یہ معمہ ہے جوصل ہونے والا ہے۔دوسرا معمہ یہ ہے کہ صدر صدام نے جب Linkage کی پیش کش کی تو Linkage کی پیشکش کو کیوں رد کیا گیا جب ہم اس کا تجزیہ کرتے ہیں تو حیران ہو جاتے ہیں کہ کیوں اس پیش کش کو رد کیا گیا ہے جب آپ اس کو پوری طرح سمجھ جائیں گے تو پھر آخری حل کیا ہونا چاہیئے ؟ وہ بات بھی آپ کو سمجھ آجائے گی۔امریکہ نے اور اس کے اتحادیوں نے مسلسل انکار کیا کہ کویت پر قبضے کا جہاں تک تعلق ہے اس کا کوئی Linkage نہیں ہے۔صدر صدام حسین کہتے تھے کہ اس کا Link ہے اور دونوں کو اکٹھا طے کرو۔اگر یہ Link تسلیم ہو جاتا تو اس کے نتیجے میں اس مسئلے کا یہ حل بنتا کہ صدر صدام نے کویت کے علاقے میں جو جارحیت کی ہے اس علاقے کو چھوڑ کر اپنی جارحیت کے قدم کو واپس لے لے اور یہود نے ، Zionists نے جو شرق اردن کے مغربی کنارے کو غصب کیا ہے اور وہاں اس کے خلاف جارحانہ پیش قدمی کی ہے وہ اپنے قدموں کو وہاں سے واپس ہٹا لے۔ایک جارحیت کو کالعدم کرو، دوسری جارحیت کو کالعدم کرو۔دونوں طرفیں برابر ہو جاتی ہیں اور انصاف قائم ہو جاتا ہے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھتا۔یہ دراصل مقصد تھا صدر صدام کا جو بار بار Linkageکےاوپر زور دیتے چلے جارہے تھے۔دنیا کی بڑی طاقتوں نے جن کا اس مسئلے سے تعلق ہے اس کو کچھ اور رنگ میں ، عمد اغلط رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا اور دنیا کی رائے عامہ کو دھوکا دینے کی کوشش کی حالانکہ صدر صدام کا موقف وہی تھا جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔