خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 86

خطبات طاہر جلد ۱۰ 86 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء فرانسیسی تسلط کے علاقے میں فرانس سے اجازت نہ ملے۔ادھر ان سے یہ گفت و شنید ہو رہی تھی یعنی شریف مکہ سے اور ادھر وہابی حکومت کے سربراہ یعنی سعودی خاندان سے ساز باز چل رہی تھی کہ اگر تم ہم سے یہ معاہدہ کرو کہ اس علاقے پر ہمیشہ کے لئے انگریزی تسلط کو قبول کر لو گے اور انگریز کی مرضی کے بغیر کوئی فارن پالیسی طے نہیں ہوگی اور ترکی کی حکومت کو تباہ کرنے میں ہمارا ساتھ دو گے اور بہت سی شرطیں تھیں تو ہم تمہاری مدد کریں گے کہ تم ارض حجاز پر قابض ہو جاؤ اور تمہاری حکومت کی ہمیشہ حفاظت کا تم سے اقرار کریں گے اور تمہیں تحفظ دیں گے کہ کبھی کوئی تمہیں میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔اور یہ معاہدہ ان کے ساتھ طے پا گیا اور چند سالوں کے بعد باقاعدہ اسی طرح حملہ ہوا اور پھر انہوں نے شریف مکہ کو الگ کر دیا تو 1915ء، 16 ، 17 کے زمانے میں ایک طرف شریف مکہ سے یہ باتیں ہو رہی تھیں دوسری طرف شریف مکہ کے مخالفین سے وہ باتیں ہورہی تھیں اور تیسری طرف روس اور انگلستان اور فرانس، ان تینوں کا 1916ء میں عثمانی حکومت کا آپس میں بانٹنے پر ایک معاہدہ ہوا اور اس میں یہ باتیں طے ہوئیں کہ جب ہم عثمانی حکومت کو ٹکڑے ٹکڑے کریں گے تو کون سا حصہ روس اپنے قبضے میں کرے گا کون سا فرانس اپنے قبضے میں کرے گا کون سا انگریز اپنے قبضے میں کریں گے اور اس کے علاوہ ایک Englo French Agrement ہوا جس میں عرب کی بندر باٹ کے متعلق انگریزوں اور فرانسیسوں کا آپس کا معاہدہ تھا۔پس اس علاقے پر تین بڑی طاقتوں کا تسلط بطور منصوبے کے اس زمانے میں طے ہو چکا تھا اور جہاں عرب کا تعلق ہے۔یہاں روسی عمل دخل کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔عرب علاقوں پر فرانس اور انگلستان کی اجارہ داری تسلیم کی جاچکی تھی۔پس بعد میں جو جنگیں ہوئیں اور بعد میں ان دونوں قوموں نے جو کردار یہاں ادا کیا ہے وہ اس پس منظر میں سمجھنا بڑا آسان ہو جاتا ہے۔پس اس پہلو سے جب ہم موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں تو مقاصد کو سمجھنا نسبتاً زیادہ آسان ہو جاتا ہے لیکن اس بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک ایسی Mystery کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جوان مسائل سے گہرا تعلق رکھتی ہے دو ایسی باتیں ہیں جو عام طور پر انسان توقع نہیں رکھتا کہ ہوں گی لیکن ہوئی ہیں ایک بات یہ ہے کہ مشرق وسطی دنیا کا امیر ترین علاقہ ہے اور دنیا کے سارے تیل کا ۶۰ فیصد اس علاقے میں پیدا ہوتا ہے اس کے باوجود اپنی دفاع کی طاقت کے لحاظ سے دنیا کا کمزور ترین علاقہ ہے