خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 5

خطبات طاہر جلد ۱۰ ما 5 خطبہ جمعہ ۴ جنوری ۱۹۹۱ء 66 معلمین وہاں اس حالت میں مستقل رہتے تھے جس حالت میں مجھ سے ایک دودن میں رہنا مشکل تھا اور میں نے محسوس کیا کہ وہ کس تکلیف میں یہاں گزارہ کرتے ہیں چنانچہ بعد میں یہ کوششیں کی گئیں کہ کسی طرح اُن کے پانی کے مسائل حل ہوں اور خدا کے فضل سے بعد میں حل بھی ہوئے لیکن اور آگے بڑھ کر ایک اور نئی مصیبت کا سامنا ہوا۔وہاں پتا چلا کہ بعض ایسے سانپ ہیں جن کو پین“ کہتے ہیں سندھی تلفظ پین کہے گے۔نون اور ڑ کے درمیان کا کوئی ہے۔یعنی پی جانے والا سانپ اور وہ سانپ ڈستا نہیں بلکہ وہ کہتے تھے کہ منہ پر منہ رکھ کر سانس پی جاتا ہے دراصل وہ زہر تھوکتا ہے اور اس کے زہر کا اثر گلے پر پڑتا ہے اور گلوں سے براہ راست آنکھوں پر حملہ کرتا ہے اور اس کا مریض اگریچ جائے تو اندھا ہو جاتا ہے اور خود اس سانپ کی بھی یہ کیفیت ہے کہ اگر دن کی روشنی میں اس آنکھیں کھل جائیں تو وہ خود اندھا ہو جاتا ہے۔اس لئے دن کے وقت بلوں میں، سوراخوں میں، مختلف اندھیری جگہوں میں، اینٹوں کے نیچے سر دے کر یہ سو جاتا ہے اور دن کے وقت بچے اُس سے کھیلتے ہیں جس طرح بٹی ہوئی رسی سے کھیلتے ہیں اُس طرح اس کو اپنے اردگرد لپیٹتے اور ایک دوسرے کو اس سے سانٹے مارتے اور اُس سانپ کا کوئی خوف نہیں لیکن جو نہی اندھیرا ہوتا ہے تو یہ باہر نکل کر مختلف جانداروں کے ساتھ لیٹ کر اُن کے منہ پہ مُنہ رکھ کر اس میں تھوکتا ہے اور اس کو اس میں کیا مزہ ہے، کیا وہ اس سے کیا لذت حاصل کرتا ہے، کوئی نہیں جانتا لیکن یہ عادت بہر حال اسی طرح ہی ہے۔چنانچہ مجھے وہاں یہ بتایا گیا کہ یہ سانپ ہیں اور ہم نے دیکھے بھی ، رات کو سفر کر رہے تھے۔تو طبیعت میں ایسی کراہت پیدا ہوئی کہ ساری رات نیند نہیں آئی۔آدمی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس کے ساتھ کوئی سانپ آکر لیٹ جائے اور پھر منہ پر منہ رکھ دے۔تو وہ جو مختلف نظارے وہاں دیکھے جس طرح معلم کام کر رہے ہیں تو طبیعت پر بڑا گہرا اثر پڑا اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ واپس جا کر ان کی زندگی کونسبتا بہتر بنانے کے لئے وقف جدید میں جو غریبانہ طاقت تھی وہ استعمال کی گئی اور ان کے مسائل کو سمجھ کر پھر اُن سے کام لئے گئے بہر حال ان حالات میں وقف جدید نے وہاں کام کیا اور کر رہی ہے۔اور عجیب حسن اتفاق ہے یا خدا کی تقدیر ہے یعنی دونوں چیز میں اکٹھی ہوں گی کہ ہندوستان میں جب وقف جدید کا اجراء ہوا ہے اور خاص طور پر یہاں آنے کے بعد جب میں نے بیرونی دنیا میں بھی وقف جدید کی تحریک کی تا کہ ہندوستان میں وقف جدید کے کام کو پھیلایا جائے تو وہاں بھی سب