خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 877 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 877

خطبات طاہر جلد ۱۰ 877 خطبہ جمعہ ۸ / نومبر ۱۹۹۱ء نتیجہ میں اگر تمہاری تمنا کے مطابق پھل نہ لگیں یا جیسی تمہیں توقع ہے ویسی عطا نہ ہو تو اس وقت تمہیں صبر کے ساتھ اس صورتحال کو برداشت کرنا ہوگا اور صبر کے نتیجہ میں خدا پر الزام لگانے کی بجائے اپنی تدابیر کا تنقیدی نظر سے جائزہ لینا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ تمہاری طرف سے کوششوں میں کیا کمی رہ گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے دعوت الی اللہ کی نصیحت کے دوران یہاں صبر بھی فرمایا اور موعظہ حسنہ کا بھی ذکر فرمایا۔قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس تعلق کو خوب کھول کر بیان فرمایا ہے۔جیسا کہ فرمایا وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصُّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (سورة العصر ) موعظہ اور تَوَاصَوا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں یعنی نصیحت کرنا اور یہاں فرمایا: حق کے ساتھ اور صبر کے ساتھ نصیحت کرنا تبلیغ کے مضمون میں موعظہ حسنہ اور صبر کا مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔پس موعظہ حسنہ کا ایک معنی قرآن سے یہ ثابت ہوا کہ موعظہ حق ہو، وہ بات کرو جو سچی ہو، سچی بات سے زیادہ خوبصورت اور کوئی بات نہیں ہے اور دلائل کی بات بعد میں شروع کرو، پہلے صاف سچی پیاری بات کرو ایسی نصیحت کرو جس میں حسن پایا جاتا ہو۔موعظہ بچی بھی ہو سکتی ہے اور اس کے باوجود حسن سے عاری بھی ہوسکتی ہے۔اگر چہ حق حسن ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن طرز بیان کا فرق ہوتا ہے اس لئے قرآن کریم نے تبلیغ کے مضمون میں موعظہ حسنہ کہا ہے جس میں سچائی شامل ہے لیکن لفظ حسنہ پر زور دے کر یہ بتایا کہ حق بات ایسے رنگ میں کہو کہ دوسرے کو پیاری لگے۔حق بات ایسے رنگ میں نہ کہو جس سے سنے والا بے وجہ تلخی محسوس کرے۔یہاں یہ بات خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ بعض دفعہ ایسی بات بھی دوسرے کو تلخ محسوس ہوتی ہے جو حسین ہو جس کے اندر غیر معمولی کشش پائی جاتی ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض دفعہ سننے والے بیمار ہوتے ہیں۔یہاں ان کا ذکر نہیں چل رہا جو سننے والے بیمار ہیں ان سے خدا خود نیئے گا چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّرَةٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرِ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَةٌ فَيُعَذِّبُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ (الغاشیہ: ۲۲ تا ۲۵ ) کہ اے محمد! تو تو مذکر ہے اور تیری نصیحت بہت حسین ہوا کرتی ہے۔یہ مضمون آنحضرت